کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کے روز سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو لے جانے والی شٹل ٹرین کے قریب ہونے والے ایک شدید دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 70 زخمی ہو گئے ہیں۔
صوبائی حکومت اور سکیورٹی حکام کے مطابق دھماکہ اُس وقت پیش آیا جب شٹل ٹرین کوئٹہ کے چھاؤنی علاقے سے مسافروں کو لے کر طویل فاصلے کی جعفر ایکسپریس سے منسلک ہونے کے لیے روانہ ہو رہی تھی۔ دھماکہ ریلوے ٹریک کے قریب پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو بوگیاں الٹ گئیں۔
پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی نے رہائشی علاقے میں ٹرین کی ایک بوگی کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں قریبی اپارٹمنٹ عمارت کے کچھ رہائشی بھی شامل ہیں۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں جلی ہوئی گاڑیاں، تباہ شدہ رہائشی عمارتیں، مڑی تڑی دھات اور ریلوے ٹریک کے اطراف بکھرا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ جائے وقوع سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “گھناؤنا حملہ” قرار دیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2025 میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنا لیا تھا اور سیکڑوں مسافروں کو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ بعد ازاں فوجی کارروائی کے بعد صورتحال پر قابو پایا گیا تھا۔ فوج کے مطابق اس کارروائی میں 21 یرغمالی، چار اہلکار اور تمام 33 حملہ آور مارے گئے تھے۔
بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، ٹرینوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ صوبے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔