ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایچ آر سی پی اور ہیومن رائٹس کونسل کا غنی امان چانڈیو کی رہائی کا مطالبہ

کراچی (ویب ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی اور قومی تنظیموں نے طالبعلم و سیاسی رہنما غنی امان چانڈیو کی مبینہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے اور حکومتِ پاکستان سے ان کی فوری بازیابی اور آزاد و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ردِعمل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 28 اکتوبر کو کراچی کے میمونه اسپتال سے غنی امان چانڈیو کا مبینہ طور پر ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں اغوا کیا جانا “نہایت تشویشناک اور ظالمانہ” عمل ہے.

تنظیم نے کہا کہ “ایک ایسے باپ کا اغوا، جو اپنی بیمار نوزائیدہ بیٹی کی تیمارداری کے لیے اسپتال آیا تھا، نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ یہ اس کے حقِ آزادی، وقار اور قانون کے مطابق کارروائی کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے. ”

ایمنسٹی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ سادہ لباس افراد، وردی پوش اہلکاروں کے ہمراہ اسپتال آئے، جنہوں نے غنی امان کو زبردستی لے جایا، لوگوں کو خوفزدہ کیا اور اہل خانہ کے موبائل فون ضبط کر لیے.

بیان میں کہا گیا کہ حکام فوری طور پر غنی امان کی حالت اور مقامِ حراست سے متعلق معلومات فراہم کریں، ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں اور اس واقعے میں ملوث ذمہ داران کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات شروع کریں.

ایچ آر سی پی کا سخت موقف

حقوقِ انسانی کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے غنی امان چانڈیو کی جبری حراست کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ریاستی اداروں کی جانب سے بنیادی شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کے حق کو دبانے کے مترادف ہیں.

کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غنی امان کو فوری بازیاب کر کے ان کی قانونی حیثیت واضح کی جائے، اور اگر کوئی کارروائی درکار ہے تو آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے جائیں.
ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ ایسے آمرانہ اقدامات سیاسی انتشار اور سماجی تقسیم کو مزید بڑھاتے ہیں، اور کمیشن اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا مؤقف

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے بھی غنی امان چانڈیو کی گمشدگی پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو بلا جواز حراست میں لینا یا جبری طور پر غائب کرنا آئین اور قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔

کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غنی امان کو فوری طور پر بازیاب کر کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں.
بیان میں مزید کہا گیا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں جو معاشرتی بےچینی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں.

ابھی تک سرکاری حکام یا متعلقہ اداروں کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غنی امان چانڈیو کی فوری بازیابی اور انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر ریاست پر شہری آزادیوں کے احترام کا اعتماد مزید کمزور ہو گا.

اپنا تبصرہ لکھیں