مٹیاری/جامشورو (انڈس ٹربیون) جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جساف آریسر) کے زیراہتمام جمعے کے روز بھٹ شاہ سے شروع ہونے والا “سندھ طلبہ مارچ” مٹیاری میں رات گزارنے کے بعد اگلی منزل کی جانب روانہ ہوا تو پولیس کی بھاری نفری نے مارچ کا گھیراؤ کرلیا۔ لاٹھی چارج اور تشدد کے بعد دو طالبات سمیت 50 طلبہ کو گرفتار کر کے قیدی وین کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا.
جساف کے مرکزی صدر اسد سندھ یار نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ناری تحریک کی رہنماؤں کرنے نظامانی، نادیا جویو، جساف مرکزی رہنماؤں ایڈووکیٹ علی عمرانی، عاقل کلہوڑو، ابرار شاہ، ساحل پھلپوٹو، کیلاش، مہتاب، سمیت درجنوں کارکنوں کو اٹھا کر لاپتہ کردیا ہے۔ گرفتار افراد میں منصور، علی رضا، فرقان، لالا ارسلان، فراز تنیو، کاشف لاشاری، نثار چانڈیو، نادر بيلار، سرائی کمیل اور دیگر شامل بتائے گئے ہیں۔

اسد سندھ یار نے کہا کہ پرامن مارچ پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے ذریعے ریاستی جبر کا مظاہرہ کیا گیا۔ مارچ کے سات نکاتی مطالبات میں تعلیمی اداروں سے فورسز کا انخلا، سندھ کی زمینوں پر قبضہ روکنا، طلبہ یونین کی بحالی اور طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنا شامل تھا۔ مارچ کو سندھ یونیورسٹی جامشورو پر اختتام پذیر ہونا تھا لیکن مٹیاری میں کارروائی کرکے اسے روکا گیا۔
جامشورو میں احتجاج اور شاہراہ جام
پولیس کارروائی اور گرفتاریوں کے خلاف سندھ یونیورسٹی کے طلبہ نے سندھالوجی کے سامنے انڈس ہائی وے پر دھرنا دے کر شاہراہ بلاک کردی، جس کے باعث ٹریفک کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ ڈی ایس پی کوٹری شاہنواز جوکھیو نے مذاکرات کی کوشش کی لیکن طلبہ نے گرفتار رہنماؤں کی رہائی تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا.
گولاڑچی میں مظاہرے، مقدمات درج
گولاڑچی میں جساف اور جسقم آریسر کے کارکنوں نے اسماعیل ناز نوتکانی، محفوظ سندھی اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں احتجاج کیا۔ پولیس نے احتجاج کرنے پر جسقم کے سینئر وائس چیئرمین اسماعیل ناز نوتکانی، ضلعی صدر محفوظ سندھی، نائب صدر لال بخش چانڈیو، نوید سموں، لیمون بھیل، پیرزادہ چانڈیو سمیت دیگر کے خلاف مقدمات درج کردیئے.
مذمتی بیانات
سندھی شاگرد سَتھ اور پورہیت مزاحمت تحریک نے الگ الگ جاری بیانات میں جساف رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔