ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری کیلئے احکامات واپس لئے جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان ایمان مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری عدالتی ہراسانی فوری طور پر ختم کی جائے اور ان کی گرفتاری کے احکامات واپس لیے جائیں۔

ایمان مزاری حازر اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری عدالتی ہراسانی فوری طور پر ختم کی جائے اور ان کی گرفتاری کے احکامات واپس لیے جائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا کے لیے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر بابو رام پنت نے ضمانت منسوخ کیے جانے اور فوری گرفتاری کے حکم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف چلایا جانے والا یہ بے بنیاد مقدمہ انصاف کے نظام کا کھلا غلط استعمال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے عدالتی ہتھکنڈے اور دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو قابلِ مذمت ہے۔

بابو رام پنت کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت لگائے گئے ’’سائبر دہشت گردی‘‘ اور دیگر الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور یہ آزادیِ اظہار کے حق کو جرم بنانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی عجلت میں مکمل کی گئی، جس کے دوران شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں، ملزمان کو سماعت میں شرکت اور شواہد کو چیلنج کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

بابو رام پنت کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت لگائے گئے ’’سائبر دہشت گردی‘‘ اور دیگر الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور یہ آزادیِ اظہار کے حق کو جرم بنانے کے مترادف ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف الزامات صرف اس وجہ سے عائد کیے گئے کہ انہوں نے پُرامن طور پر اپنے انسانی حقوق استعمال کیے اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں۔

تنظیم نے مطالبہ کیا کہ دونوں وکلا کے خلاف تمام الزامات فوری طور پر ختم کیے جائیں، گرفتاری کے احکامات واپس لیے جائیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ انسانی حقوق کے محافظ بلا خوف و خطر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔

پس منظر

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف 12 اگست 2025 کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق الزام ہے کہ ایمان مزاری نے 2021 سے 16 اپریل 2025 کے دوران اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ (ایکس) پر ایسی پوسٹس کیں جن میں ’’اہم ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا گیا‘‘۔ ان پوسٹس پر ’’سائبر دہشت گردی‘‘، ’’نفرت انگیز مواد‘‘ اور ’’جھوٹی معلومات‘‘ پھیلانے کی دفعات لگائی گئیں۔

ہادی علی چٹھہ پر بھی یہی الزامات صرف اس بنیاد پر عائد کیے گئے کہ انہوں نے ایمان مزاری کی پوسٹس کو شیئر اور ری پوسٹ کیا۔ ہادی چٹھہ کو 29 اکتوبر 2025 کو اس مقدمے میں مختصر طور پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

دسمبر 2025 میں دونوں وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں ٹرائل کورٹ کے جج پر جانبداری اور طریقۂ کار کی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کیس کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کی استدعا کی گئی۔ تاہم عدالتی کارروائی جاری رہی اور 15 جنوری 2026 کو ٹرائل کورٹ نے دونوں کی ضمانت منسوخ کر دی، جبکہ 16 جنوری کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں