اسلام آباد / کابل (ویب ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں شدید جھڑپوں کے بعد کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جمعرات کی رات سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی فورسز اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہیں۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ 21 فروری کو افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے بعد پاکستانی سرحدی پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا، جسے اسلام آباد نے بلااشتعال کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کیے۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
وزیرِ اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 27 سرحدی چوکیاں تباہ کی گئیں_
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی حملوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جوابی کارروائیوں میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے اور متعدد اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ طالبان وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائیاں نائب امیر کے احکامات پر رات بارہ بجے روک دی گئیں۔
ادھر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے حملے جاری رہے تو پاکستان سخت ردعمل دینے پر مجبور ہو سکتا ہے، اور خبردار کیا کہ ملک کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔
سرحدی علاقوں کی صورتحال
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے ناوگئی سیکٹر، تیراہ خیبر اور چترال سیکٹر میں جوابی کارروائیاں کی گئیں، جہاں متعدد افغان چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں۔ مہمند کے گرسال اور ولی خان سیکٹر میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ انگور اڈہ سیکٹر میں افغان چارلی اور بابری پوسٹوں کی تباہی کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فائرنگ کے نتیجے میں باجوڑ کے علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں مارٹر گولے گرنے سے خواتین سمیت پانچ شہری زخمی ہوئے، جنہیں خار اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک مسجد کو جزوی نقصان پہنچا۔
فضائی کارروائیوں کے دعوے
پاکستانی حکام کے مطابق ننگرہار اور قندھار میں ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کابل اور پکتیا میں فوجی اہداف کو نقصان پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
تاحال دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں حالات غیر یقینی اور کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔