بلوچستان میں تیل قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، ایندھن کے بحران کا خدشہ

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں جاری کشیدگی اور سرحدی بندشوں کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی سطح پر ایرانی تیل کی فی لیٹر قیمت میں تیس سے چالیس روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور سرحدی آمد و رفت میں رکاوٹیں ہیں، جس کے باعث تیل کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔

کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ایرانی پیٹرول کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور بعض مقامات پر اس کی فی لیٹر قیمت 220 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں طویل عرصے سے پاکستانی تیل کمپنیوں کے پیٹرول پمپ موجود نہیں، جس کے باعث نہ صرف ایران سے متصل سرحدی اضلاع بلکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی لوگوں کا انحصار بڑی حد تک ایرانی تیل پر ہے۔

ایران سے ملحقہ کئی اضلاع میں برسوں سے چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے غیرقانونی طریقے سے ایرانی تیل لایا جاتا ہے اور مقامی سطح پر فروخت کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور چند بڑے شہروں کے علاوہ صوبے کے بیشتر علاقوں میں پاکستانی کمپنیوں کے تیل کے بجائے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

مقامی تاجروں کے مطابق بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کا انحصار گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی تیل پر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران سے تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو گئی تو صوبے کو ایندھن کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں ایران سے بڑی مقدار میں تیل بلوچستان کے راستے پاکستان کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچایا جاتا تھا.

اپنا تبصرہ لکھیں