سکھر (نامہ نگار) سکھر میں تھر ایجوکیشن الائنس اور ملالہ فنڈ کے تعاون سے طالبات کو تعلیم کے دوران درپیش مسائل، تعلیمی اداروں کے بجٹ اور اس کے مؤثر استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے نجی ہال میں “چیمپین فار چینج نیٹ ورک” کی لڑکیوں کے لیے تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔
اس موقع پر تھر ایجوکیشن الائنس کے چیف ایگزیکٹو افسر پرتاب شیوانی نے کہا کہ سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے لیے مناسب بجٹ کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب لڑکیاں خود بھی اپنی تعلیم میں بہتری اور فنڈز کے حصول کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے ہیڈ ٹیچرز کو مالی اختیارات دینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے تعلیمی اداروں کے مسائل کے فوری حل میں مدد ملے گی اور ہیڈ ٹیچرز اپنے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں گے۔
پرتاب شیوانی کے مطابق “چیمپین فار چینج” پروگرام کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع سکھر، لاڑکانہ، سانگھڑ، بدین، کراچی ملیر اور تھرپارکر میں طالبات کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹیز میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق مسائل کو اجاگر کریں اور تعلیمی بجٹ میں بہتری کے لیے مؤثر آواز اٹھا سکیں۔
ورکشاپ کے دوران تھر ایجوکیشن الائنس کے ماسٹر ٹرینرز کپل دیو اور کرن نے مختلف سیشنز کے ذریعے شرکاء کو تفصیلی تربیت فراہم کی۔ اس موقع پر سماجی رہنما جواد احمد میرانی اور اقران خان میمن نے بھی چیمپین فار چینج کی لڑکیوں کو نیٹ ورک کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور تربیت کے بعد عملی میدان میں متحرک کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
تربیتی نشست میں سکھر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی 25 سے زائد طالبات نے شرکت کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس تربیت کے ذریعے انہیں تعلیمی بجٹ اور اس کے استعمال سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں، جس کے بعد وہ اپنے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی کے خلاف مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکیں گی۔
ورکشاپ کے دوران طالبات کو ایڈووکیسی پلاننگ، اسمارٹ اہداف کے تعین، پاور میپنگ، پیغام سازی اور خطرات کے تجزیے جیسے موضوعات پر عملی تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ تعلیمی بجٹ کی اقسام، بجٹ دستاویزات اور بجٹ کے مراحل سے متعلق بھی تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔
تربیتی سیشن میں جینڈر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ سازی، پالیسی سازی، کمیونٹی روابط، ذرائع ابلاغ سے رابطے، درخواستوں کی تیاری اور قیادت سے ملاقات جیسے اہم پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ شرکاء عملی طور پر مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
آخر میں تربیت مکمل کرنے والی طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔