اسلام آباد(ویب ڈیسک) عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عارضی طور پر لڑائی روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جنگ بندی ے لیے دی گئی آخری ڈیڈ لائن کے قریب پہنچنے پر دنیا ایک بڑے تصادم کے خدشے سے دوچار تھی۔ اسی دوران پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوامی طور پر دونوں فریقوں سے جنگ بندی کی اپیل کی تاکہ مستقل امن کے لیے مزید وقت حاصل کیا جا سکے۔
امریکی ذرائع کے مطابق بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان کی قیادت سے رابطوں کے بعد لڑائی کو وقتی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان رابطوں میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل تھے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس بحران کو کم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل کے ماہر مائیکل کگل مین نے اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایک بڑے عالمی تصادم کو کم از کم عارضی طور پر ٹالا گیا ہے۔
جنگ بندی کی خبر کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کاروبار روکنا پڑا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکا اور ایران کے وفود کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت بھی دی ہے تاکہ تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولن لیوٹ کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق چین نے بھی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ سانگ یی نے حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل، روس اور خلیجی ممالک سمیت مختلف فریقوں سے متعدد ٹیلی فونک رابطے کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، امریکا اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات نے اسے اس تنازع میں ایک اہم رابطہ کار کا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بھی پاکستان کے لیے تشویش کا باعث تھا کیونکہ ملک اپنی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی حیثیت میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔