سندھ حکومت کا تاریخی قدم، ہندو طلبہ کے لیے الگ مذہبی نصاب متعارف

کراچی(انڈس ٹربیون) حکومتِ سندھ کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم سے متعلق ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت تیسری سے پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تین مذہبی کتابیں نصاب میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

محکمۂ تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 20 اپریل 2026 کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کے تحت تعلیمی سال 2026-27 سے ہندو طلبہ کو ان کی مذہبی تعلیم کے لیے مخصوص کتب پڑھائی جائیں گی۔

دستاویز کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے پاس رواں تعلیمی سال کے لیے ان کتابوں کی اشاعت کا بجٹ موجود نہیں، جس کے باعث کراچی کی ایک سماجی تنظیم “پریم ساگر سنستھا” کو عارضی طور پر ان کتب کی اشاعت کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم ان کتابوں کی تقسیم سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذریعے ہی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق آئندہ تعلیمی سال میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ان مذہبی کتابوں کی اشاعت کے لیے باقاعدہ فنڈز مختص کرے گا۔ یہ نصابی کتب صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کو فراہم کی جائیں گی۔

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد ہندو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد ضلع تھرپارکر میں 26 ہزار 642 اور عمرکوٹ میں 21 ہزار 584 طلبہ پر مشتمل ہے۔

محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی نظام میں شمولیت کو فروغ دینے اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ان کے مذہب کے مطابق تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ انہیں اپنی مذہبی تعلیم تک مساوی رسائی حاصل ہو سکے۔

سندھ کے فکری حلقوں کا خیرمقدم

کراچی: حکومتِ سندھ کے محکمۂ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے مذہبی کتب نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے پر مختلف سماجی و فکری حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا ہے، جس میں اس اقدام کو مجموعی طور پر خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض سوالات اور مطالبات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

سماجی رہنما دلیپ رتنانی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ یہ مثبت پیش رفت ہے کہ تیسری سے پانچویں جماعت تک ہندو بچوں کو اسکولوں میں سناتن دھرم کی تعلیم دی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ویدوں اور سناتن دھرم کے سائنسی فلسفے کو صرف ہندو طلبہ تک محدود رکھنے کے بجائے تمام بچوں کو پڑھایا جانا چاہیے تاکہ معاشرہ تنگ نظری سے نکل کر فکری وسعت کی جانب بڑھ سکے۔ انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ پنجاب کے نصاب میں ہندوؤں کے خلاف مبینہ نفرت انگیز مواد پر متعلقہ حکام کب توجہ دیں گے۔

دوسری جانب ڈاکٹر سورٹھ سندھُو نے اس فیصلے کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس آبادی کے لیے اہم ہے جو اس خطے کی قدیم تہذیب کی امین رہی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مذہبی تعلیم کو صرف تیسری سے پانچویں جماعت تک محدود کیوں رکھا گیا ہے؟ اگر اس مضمون کو آگے جاری نہیں رکھا جاتا تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں