میرپورخاص(انڈس ٹربیون) ضلع میرپورخاص کی تحصیل جھڈو میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول جڑیو میں مبینہ طور پر اسکول کی ٹینکی کا آلودہ اور زہریلا پانی پینے سے دو طالبات جاں بحق جبکہ متعدد بچیاں بیمار پڑ گئی ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
متوفیہ طالبات میں پہلی جماعت کی سات سالہ حفظ سلیم اور چھٹی جماعت کی گیارہ سالہ نرگس دختر علی بخش شامل ہیں۔ متاثرہ بچیوں میں شازیہ، ایمن اور حسینہ سمیت دیگر طالبات زیر علاج ہیں۔
مقامی سماجی رہنما میر حسن لنڈ کے مطابق جمعرات کے روز بچیاں اسکول پہنچیں تو اساتذہ موجود نہیں تھیں۔ اس دوران بعض طالبات نے اسکول کی ٹینکی سے پانی پیا جو گرم اور بدبودار تھا۔ بعد ازاں ٹیچر اسکول پہنچیں اور بچیوں کو مبینہ طور پر بتایا کہ یہ پانی خراب ہے اور اسے نہیں پینا چاہیے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ چھٹی کے بعد جب بچیاں گھروں کو پہنچیں تو ان کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی، انہیں الٹیاں اور دست لگ گئے۔ متعدد بچیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو طالبات دم توڑ گئیں جبکہ دیگر کا علاج جاری ہے۔ میر حسن لنڈ کے مطابق کچھ بچیوں نے پانی پیتے ہی اسکول میں قے کردی تھی جس کے باعث ان کی حالت سنبھل گئی۔
سماجی رہنما کا کہنا تھا کہ اسکول میں صاف پینے کے پانی کی مناسب سہولت موجود نہیں اور پانی کی ٹینکیوں کی طویل عرصے سے صفائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی بھانجی شازیہ اب بھی شدید بیمار ہے اور بات کرنے کے قابل نہیں۔
دوسری جانب اسکول کی ہیڈ مسٹریس نے طالبات کی ہلاکت کو پانی پینے سے جوڑنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول میں فلٹر پلانٹ موجود ہے جہاں سے تمام طالبات پانی پیتی ہیں۔ ان کے مطابق چھ سو سے زائد طالبات زیر تعلیم ہیں اور کسی دوسری بچی کو ایسی شکایت نہیں ہوئی، اس لیے زہریلے پانی کی خبر بے بنیاد اور افواہ ہے۔
ادھر متوفیہ طالبہ نرگس کے والد علی بخش نے بھی اسکول انتظامیہ پر براہ راست الزام عائد کرنے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کو دماغی بخار اور دوروں کی شکایت تھی۔ ان کے مطابق نرگس کو تشویشناک حالت میں حیدرآباد اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کرگئی۔
واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے شفاف تحقیقات اور اسکول میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔