سانگھڑ(انڈس ٹربیون)ضلع سانگھڑ کے تھانہ جھول کے حدود دیہہ 21 جمڑاؤ میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک نوجوان لڑکی کو قتل کرکے اس کی لاش بغیر غسل، کفن اور نماز جنازہ کے گھر کے اندر دفن کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعے کے بعد جھول پولیس نے مقدمہ درج کرکے لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کردی جبکہ مرکزی ملزم فرار بتایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق دیہہ 21 جمڑاؤ کے رہائشی حسنین لغاری نے اپنے چچا میر سکندر لغاری کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے اپنی کنواری بیٹی فریدہ لغاری پر مبینہ طور پر کاری کا الزام لگا کر اسے بے دردی سے قتل کردیا اور بعد ازاں لاش کو بغیر غسل، کفن اور نماز جنازہ کے کپڑوں سمیت گھر کے اندر گڑھا کھود کر دفن کردیا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم گھر کو تالے لگا کر اہلخانہ سمیت فرار ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر اہلکار موقع پر پہنچے، گھر کے تالے توڑ کر زمین میں دفن لاش نکالی اور پوسٹ مارٹم کیلئے رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا۔
مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر خالدیٰ چانگ کے مطابق لاش تقریباً ایک ہفتہ پرانی معلوم ہوتی ہے، بظاہر جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود نہیں تاہم حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئیں گے۔
مقدمے کے فریادی حسنین لغاری نے بتایا کہ ان کے خاندان اور ملزم کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے۔ ان کے بقول میر سکندر لغاری کبھی یہ کہتا تھا کہ لڑکی فرار ہوگئی ہے، کبھی دعویٰ کرتا تھا کہ اس کی شادی کردی گئی ہے، جبکہ انہیں شبہ تھا کہ فریدہ لغاری کو قتل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 29 اپریل کو پولیس کو اطلاع دی گئی تھی جس کے بعد مختلف طریقوں سے تحقیقات کی گئیں اور ایک ہفتے بعد مقدمہ درج کرکے لاش برآمد کی گئی۔
ایس ایچ او جھول نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاش چار سے پانچ روز پرانی ہے اور بظاہر مقتولہ کو قتل کرنے کے بعد بغیر مذہبی رسومات ادا کیے گھر کے اندر دفن کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں سندھ میں نام نہاد غیرت کے نام پر خواتین کے قتل واردات میں خطرناک حد تیزی آ گئی ہے. دو ہفتے قبل ضلع خیرپور کے ٹنڈو مستی میں ہجوم کے سامنے 22 سالہ لڑکی روبینا عرف خالدہ چانڈیو کو قتل کر کے ان کی لاش بنا غسل اور کفن دفنا دی گئی تھی جبکہ گذشتہ دنوں سکھر میں تحفظ کیلئے پولس کے پاس پہنچنے کے بعد باپ کی ضمانت پر عدالت کی جانب سے والد اور ماموں کے حوالی کی گئی 33 سالہ گلاں بھارو کو قتل کر دیا گیا.