بنوں(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ایک پولیس چوکی پر ہونے والے خودکش کار بم حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حملے کے بعد شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اس وقت کیا گیا جب دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔ دھماکے کے نتیجے میں چوکی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ متعدد گاڑیاں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
علاقائی پولیس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ حملے میں کم از کم 15 اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس افسر سجاد خان کے مطابق تباہ شدہ چوکی سے 15 اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس کے ایک اہلکار نے، جنہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شدت پسندوں نے پہلے خودکش گاڑی کے ذریعے حملہ کیا، بعد ازاں حملہ آور چوکی کے احاطے میں داخل ہو گئے اور وہاں موجود اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
انہوں نے بتایا کہ اضافی نفری جب متاثرہ مقام کی جانب روانہ ہوئی تو دہشت گردوں نے ان اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے کارروائی کے دوران ڈرونز کا بھی استعمال کیا۔ واقعے کے بعد ریسکیو اداروں اور ایمبولینسوں کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا جبکہ بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے کی ذمہ داری ایک عسکری تنظیم ’’اتحاد المجاہدین‘‘ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔