سکھر (رپورٹ: تاج رند) ضلع گھوٹکی کے تھانہ عادلپور کی حدود میں مبینہ طور پر بااثر وڈیروں کی جانب سے ایک لڑکی کو والدین کے سامنے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان نے پولیس پر مقدمہ درج نہ کرنے اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف کارروائی سے گریز کا الزام عائد کیا ہے۔
پیر کے روز سکھر نیشنل پریس کلب میں والدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مبینہ متاثرہ لڑکی نے میڈیا کو بتایا کہ 3 مئی کو وہ اپنے گاؤں وزیر چاچڑ کے قریب کھیت میں گھاس کاٹ رہی تھی کہ گاؤں کے بااثر افراد نثار چاچڑ، مشتاق چاچڑ، ضمیر چاچڑ اور دیگر اسے اغوا کرکے ایک بیٹھک میں لے گئے، جہاں مبینہ طور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق چیخ و پکار سن کر اس کے والدین موقع پر پہنچے تو ملزمان نے اسلحہ تان کر انہیں یرغمال بنا لیا اور والدین کے سامنے دوبارہ زیادتی کرتے رہے۔ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان اس دوران نازیبا ویڈیوز بھی بناتے رہے اور دھمکی دی کہ اگر پولیس کو اطلاع دی گئی تو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی، جبکہ پورے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ لڑکی اور اس کی والدہ آبدیدہ ہو گئیں اور ایک دوسرے سے لپٹ کر روتی رہیں۔
متاثرہ لڑکی کے والدین نے الزام لگایا کہ جب وہ انصاف کے لیے عادلپور تھانے گئے تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ نے میڈیا کو بتایا، “ہم بیٹی کے ساتھ ہونے والی درندگی کے خلاف تھانے گئے مگر پولیس نے کہا کہ ملزمان بااثر وڈیرے ہیں، ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکتا، پھر ہمیں تھانے سے دھکے دے کر نکال دیا گیا۔”
متاثرہ خاندان نے کہا کہ اگر ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ عادلپور تھانے کے سامنے اجتماعی خودسوزی کریں گے۔
دوسری جانب پولیس نے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایس ایچ او عادلپور ظہیر بھٹو نے انڈس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی یا اس کے اہلخانہ کی جانب سے تاحال مقدمہ درج کرانے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
ادھر ڈی ایس پی گھوٹکی انور شیخ نے بتایا کہ واقعے کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھتران خود متاثرہ لڑکی کے گاؤں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو میڈیکل کرانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گھوٹکی نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی مذمت کی ہے۔
بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ متاثرہ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انسانیت، بنیادی حقوق اور قانون کی بالادستی پر حملہ ہے۔ اعلامیے میں ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری ایف آئی آر درج کرکے شفاف تحقیقات کی جائیں، تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور غفلت برتنے والے ایس ایچ او عادلپور کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔
بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے، اس لیے متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔