کوئٹہ: سرکاری ملازم نے مبینہ طور پر اہلیہ اور چار بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی، ویڈیو بیان کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں ایک سرکاری ملازم نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی، جبکہ واقعے سے دو روز قبل ریکارڈ کیا گیا ان کا ایک ویڈیو بیان بھی منظرعام پر آ گیا ہے جس میں انہوں نے چند افراد کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

پولیس کے مطابق محمد آصف ولد موسیٰ خان، جو بلوچستان سیکریٹریٹ میں محکمہ سمال انڈسٹریز کے ملازم تھے، نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ زینب اور چار بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔ انہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔

حکام کے مطابق جاں بحق بچوں میں 14 سالہ حذیفہ، 12 سالہ حورین، 6 سالہ علینہ اور تقریباً ڈیڑھ سالہ مہرنا شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ویڈیو بیان میں کیا کہا گیا؟

واقعے کے بعد محمد آصف کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعے سے دو روز قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔

13 منٹ سے زائد دورانیے کی اس ویڈیو میں محمد آصف نے الزام عائد کیا کہ ان کے پڑوس میں رہنے والے دو بااثر سرکاری افسران آفتاب جبل اور مسعود مینگل ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر دباؤ ڈال رہے تھے اور سرکاری رہائش گاہ خالی کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کبھی گیس اور کبھی پانی کی فراہمی بند کی جاتی رہی جبکہ ان کے ساتھ ناروا سلوک بھی کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ان کی بیٹی پر بری نظر رکھی جا رہی ہے۔

محمد آصف نے ویڈیو میں کہا کہ اگر وہ کوئی انتہائی قدم اٹھاتے ہیں تو مذکورہ افراد کو اس کا ذمہ دار سمجھا جائے۔ ویڈیو کے آخر میں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی اپیل بھی کی۔

تاہم ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی نامزد افراد کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔

پڑوسیوں کا مؤقف

وحدت کالونی کے بعض رہائشیوں نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ محمد آصف اور ان کی اہلیہ کے درمیان گھریلو تنازعات موجود تھے اور میاں بیوی کے درمیان جھگڑے معمول کی بات تھے۔

پڑوسیوں کے مطابق کچھ عرصہ قبل دونوں کے درمیان شدید اختلافات کے بعد زینب نے چند روز کے لیے انہی پڑوسیوں کے گھر پناہ لی تھی جن پر بعد میں محمد آصف نے اپنے ویڈیو بیان میں الزامات عائد کیے۔

حکومت کا ردعمل

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

معاون وزیر اعلیٰ برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حقائق سامنے لانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ان کے مطابق محمد آصف کے ویڈیو بیان کی روشنی میں دو مشتبہ سرکاری ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد، بیانات اور فرانزک رپورٹوں کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے اور اگر تحقیقات کے دوران کسی فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ اس افسوسناک واقعے کے حوالے سے پائے جانے والے سوالات اور خدشات کا جواب دیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں