جنگشاہی (انڈس ٹربیون) سندھ کے عظیم انقلابی مفکر، عوامی رہنما اور مظلوم قوموں و محکوم طبقات کی توانا آواز رسول بخش پلیجو کی آٹھویں برسی کے موقع پر جنگشاہی کے قریب ان کے آبائی گاؤں منگر خان پلیجو میں ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا گیا، جس میں سندھ سمیت ملک بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
عوامی تحریک کے زیر اہتمام منعقدہ اس ملک گیر جلسہ عام میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ شرکاء نے رسول بخش پلیجو کی سیاسی، فکری اور عوامی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب کے دوران سندھیانی تحریک کی خواتین کارکنان نے پریڈ کے ذریعے اپنے قائد کو سلامی پیش کی، جبکہ سندھیاڑی ثقافتی گروپ نے قومی گیتوں اور ٹیبلو کے ذریعے ثقافتی انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے کہا کہ رسول بخش پلیجو نے اپنی پوری زندگی جمہوریت، قومی حقوق، خواتین کی آزادی، کسانوں، مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے نکلنے کے لیے عوامی جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
جلسہ عام میں امریکی سامراجی پالیسیوں، مہنگائی، خواتین کے قتل اور مجوزہ آئینی تبدیلیوں کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک کی بنیاد 23 مارچ 1940 کی قراردادِ پاکستان اور بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر کے اصولوں کے مطابق استوار کی جائے۔
اجلاس میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کو سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔
جلسے سے عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، عوامی جمہوری پارٹی کے صدر سراج سیال، عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کے وفاقی سیکریٹری جنرل بخشل تھلہو، سرائیکستان قومی اتحاد کے سربراہ خواجہ غلام فرید کوریجہ، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل امداد قاضی، عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے صدر علی نواز نظامانی، معروف محقق و دانشور جامی چانڈیو، آرٹسٹ شیما کرمانی اور دیگر سیاسی، سماجی، ادبی اور مزدور تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
تقریب میں سندھ بار کونسل کے اراکین، وکلاء، دانشوروں، ادیبوں، سماجی کارکنوں اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور رسول بخش پلیجو کی فکری وراثت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔