ڈاکٹر احمد علی میمن
بین الاقوامی سیاست میں بعض معاہدے صرف سفارتی دستاویزات نہیں ہوتے بلکہ وہ تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. اسی طرح بعض جنگیں بھی صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ مذاکرات کی میز، ذرائع ابلاغ، عالمی مالیاتی نظام، اقتصادی پابندیوں، سفارتی محاذوں اور ریاستی اداروں کے اندر بھی جاری رہتی ہیں.ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اسی حقیقت کا مظہر ہے.اگر اس بحران کو صرف میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں یا فوجی طاقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر کا بڑا حصہ نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے. درحقیقت یہ صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں بلکہ دو مختلف سیاسی نظاموں، دو جداگانہ طرزِ حکمرانی اور عالمی سیاست کے دو متضاد تصورات کے درمیان جاری ایک گہری کشمکش ہے.
سن 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے تعلقات مسلسل بداعتمادی، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور سفارتی کشیدگی کا شکار رہے ہیں. کبھی سفارت کاری نے اس خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی، کبھی فوجی بحرانوں نے فاصلے مزید بڑھا دیے.اسی تناظر میں حالیہ سفارتی رابطوں اور مفاہمتی کوششوں نے یہ امید پیدا کی کہ شاید نصف صدی سے جاری محاذ آرائی کسی نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے.
کئی بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک ایران نے سخت معاشی پابندیوں، سیاسی تنہائی اور مسلسل عسکری دباؤ کے باوجود مذاکرات کی میز پر اپنی حیثیت برقرار رکھی. بعض تجزیہ نگاروں نے یہ رائے بھی دی کہ تہران نے ماضی کے بعض مذاکرات کے مقابلے میں بہتر سفارتی گنجائش حاصل کی اور کم از کم عارضی طور پر اسرائیل کے سخت مؤقف کو وہ مکمل عالمی حمایت نہ مل سکی جس کی اسے توقع تھی. اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اگر کسی ریاست کے پاس سیاسی استقامت، سفارتی مہارت اور داخلی مزاحمت کی صلاحیت موجود ہو تو وہ اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کے ساتھ بھی مذاکرات کی میز پر مؤثر انداز میں بیٹھ سکتی ہے.
لیکن عالمی سیاست کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ معاہدہ حاصل کرنا نسبتاً آسان اور اسے برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے. جیسے ہی معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں اختلافات سامنے آئے، دونوں فریق ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنے لگے. امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے معاہدے کی روح کے مطابق پیش رفت نہیں کی، جبکہ ایران کا مؤقف تھا کہ امریکہ نے پہلے اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور اعتماد سازی کے بجائے دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی جاری رکھی.
اس اختلاف نے سفارت کاری کی رفتار سست کر دی اور ایک مرتبہ پھر عسکری کشیدگی نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی.
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے.اگر ایران سفارتی سطح پر نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا تو پھر وہ اس برتری کو مستقل سیاسی سرمایہ کیوں نہ بنا سکا؟ اور اگر امریکہ واقعی مذاکرات چاہتا تھا تو پھر دونوں فریق دوبارہ تصادم کے دہانے پر کیسے پہنچ گئے؟
ان سوالات کا جواب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے سیاسی نظاموں، ان کی فیصلہ سازی کے طریقۂ کار اور ان کے ریاستی ڈھانچے میں پوشیدہ ہے.
امریکہ ایک آئینی وفاقی جمہوریہ ہے، جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں۔ صدر ریاست اور حکومت کا سربراہ ضرور ہے، مگر اس کے اختیارات آئین، کانگریس، آزاد عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں کے درمیان تقسیم ہیں. ہر دو سال بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام چار سو پینتیس نشستیں عوام کے سامنے پیش ہوتی ہیں، جبکہ سینیٹ کے تقریباً ایک تہائی ارکان بھی عوامی فیصلے سے گزرتے ہیں. یہی مسلسل احتساب امریکی نظام کی بنیادی خصوصیت ہے، جہاں خارجہ پالیسی بھی داخلی سیاست سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتی.
اس کے برعکس ایران کا سیاسی نظام ایک منفرد امتزاج ہے جس میں عوامی نمائندگی اور مذہبی قیادت ایک ہی آئینی ڈھانچے کے اندر موجود ہیں. عوام صدر، پارلیمان اور بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن ریاست کی مجموعی تزویراتی سمت، قومی سلامتی، مسلح افواج، دفاع، جوہری پروگرام اور بعض اہم خارجہ امور میں حتمی آئینی اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہوتا ہے.
ایران میں ریاستی اختیارات کی عمومی ترتیب کچھ اس طرح سمجھی جا سکتی ہے.
سپریم لیڈر,
سپریم لیڈر کا دفتر
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل
اسلامی انقلابی محافظ دستہ
نگہبان کونسل
صدرِ مملکت
کابینہ اور وزارتیں
اس کے مقابلے میں امریکہ میں آئینی اختیارات کی ترتیب یوں ہے.
عوام
آئین
صدر
کانگریس
سپریم کورٹ
وفاقی ادارے اور مسلح افواج
یہ تقابل واضح کرتا ہے کہ دونوں ریاستوں کی فیصلہ سازی کے مراکز اور ان کی سیاسی ساخت بنیادی طور پر مختلف ہیں. امریکہ میں اختیارات کی تقسیم اور ادارہ جاتی توازن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ ایران میں قومی سلامتی اور ریاستی حکمتِ عملی کے معاملات زیادہ مرکزی نوعیت رکھتے ہیں.یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارتی حلقوں میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ایران کی ریاستی پالیسی کا آخری ترجمان کون ہے؟ منتخب صدر، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل، اسلامی انقلابی محافظ دستہ یا سپریم لیڈر؟ اگر ریاست کے تمام ادارے ایک ہی سمت میں ہم آہنگ ہوں تو یہ ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن اگر مختلف اداروں کے بیانات یا ترجیحات میں فرق محسوس ہو تو بیرونی دنیا میں ابہام پیداہوتا ہے، جس کا فائدہ مخالف قوتیں سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھا سکتی ہیں.
یہی وہ مقام ہے جہاں ایران اور امریکہ کا تنازع صرف دو ریاستوں کے اختلاف سے آگے بڑھ کر دو مختلف سیاسی فلسفوں کے تصادم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف آئینی جمہوریت کا وہ تصور ہے جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کو متوازن رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسا نظام ہے جو عوامی نمائندگی کو مذہبی قیادت اور انقلابی ریاستی فلسفے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی بنیادی فرق کو سمجھے بغیر نہ موجودہ بحران کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سفارت کاری، طاقت اور عالمی مفادات
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو صرف دو ممالک کے درمیان طاقت کی آزمائش سمجھنا حقیقت کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔ اس بحران کے پیچھے سفارت کاری، معیشت، علاقائی سیاست، نظریاتی تصادم اور عالمی طاقت کے توازن کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا کوئی دروازہ کھلتا ہے تو صرف دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ، یورپ، روس، چین، اسرائیل اور خلیجی ریاستیں بھی اس کے نتائج پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
حالیہ مفاہمتی عمل بھی ابتدا میں ایران کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا گیا۔ برسوں سے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنے والا ایران ایک مرتبہ پھر عالمی مذاکرات کے مرکز میں آ گیا۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ مسلسل دباؤ کے باوجود ایران کو مکمل طور پر عالمی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ تہران نے صبر، مزاحمت اور سفارت کاری کے امتزاج سے اپنے لیے ایک بہتر سیاسی ماحول پیدا کیا، جبکہ اسرائیل کی یہ خواہش کہ ایران مکمل بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو، پوری طرح کامیاب نہ ہو سکی۔
لیکن سفارت کاری صرف معاہدے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی اصل آزمائش معاہدے پر عمل درآمد میں ہوتی ہے۔ جیسے ہی دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد میں کمی آئی، ایک مرتبہ پھر الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امریکہ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنی بعض ذمہ داریوں کو پوری طرح پورا نہیں کیا، جبکہ ایران کا موقف تھا کہ امریکہ نے بھی اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی اور پابندیوں کے دباؤ کو سفارتی عمل پر ترجیح دی۔ اسی اختلاف نے معاہدے سے پیدا ہونے والی امید کو ایک نئے بحران میں تبدیل کر دیا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بین الاقوامی سیاست میں بیانیہ بھی طاقت کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ جس ریاست کا مؤقف عالمی رائے عامہ، بین الاقوامی اداروں اور اتحادی ممالک میں زیادہ قابلِ قبول بن جاتا ہے، اسے سفارتی برتری حاصل ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے صرف عسکری طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ سفارتی رابطوں، اقتصادی پابندیوں، عالمی اداروں اور اپنے اتحادیوں کے ذریعے بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
اس کے برعکس ایران نے اپنی حکمتِ عملی میں قومی خودمختاری، مزاحمت اور علاقائی اثرورسوخ کو بنیادی اہمیت دی۔ تہران کا استدلال یہ رہا کہ کوئی بھی خودمختار ریاست اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیت پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسی کو اپنی قومی سلامتی کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل انہی عوامل کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ سمجھتے ہیں۔
یہ اختلاف صرف پالیسی کا نہیں بلکہ ریاستی سوچ کا بھی ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اکثر یہ تصور غالب رہتا ہے کہ عالمی استحکام کے لیے بعض اوقات سخت اقتصادی یا عسکری دباؤ ضروری ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایران کا خیال ہے کہ بیرونی دباؤ اس کی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جس کا مقابلہ مزاحمت کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ اسی نظریاتی فرق نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کیا ہے۔
اس بحران میں اسرائیل کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل کی نظر میں ایران صرف ایک علاقائی حریف نہیں بلکہ ایک ایسا سکیورٹی چیلنج ہے جو مستقبل میں اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے تل ابیب مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت بین الاقوامی نگرانی رکھی جائے۔ دوسری طرف ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام مکمل طور پر قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہے اور اسے کسی بیرونی دباؤ کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ نے اس بحران کو اپنے عالمی اتحادوں کو مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر بھی استعمال کیا۔ شمالی بحرِ اوقیانوس کے دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت میں اضافہ، یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ رابطوں کو مزید فعال بنانا اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ اگرچہ یورپ کے کئی ممالک ایران کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ بند کرنے کے حق میں نہیں تھے، لیکن وہ بھی خطے میں مزید کشیدگی کے امکانات سے شدید تشویش رکھتے تھے۔
ادھر روس اور چین نے اس صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھا۔ دونوں ممالک عمومی طور پر ایسے عالمی نظام کی حمایت کرتے ہیں جہاں طاقت صرف ایک ریاست کے ہاتھ میں مرتکز نہ ہو۔ تاہم ان کی پالیسیاں بھی اصولوں سے زیادہ اپنے قومی مفادات کے تابع رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف ایران کے ساتھ تعاون برقرار رکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنے وسیع تر عالمی مفادات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کا تنازع اب دوطرفہ اختلاف سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ عالمی طاقتوں، علاقائی مفادات، اقتصادی راستوں، توانائی کی سیاست اور بین الاقوامی قانون کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ بحران بن چکا ہے۔
اسی لیے اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنی طاقت کو زیادہ مؤثر سفارت کاری، بہتر ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عالمی اعتماد میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی سوال آنے والے برسوں میں اس بحران کے انجام کا تعین کرے گا۔
علاقائی سیاست، پاکستان اور جدید جنگ کا تصور
اگر اس بحران کو صرف ایران اور امریکہ کے درمیان محدود سمجھا جائے تو یہ ایک بڑی غلط فہمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ آج بھی عالمی سیاست کا وہ خطہ ہے جہاں ہر بڑی طاقت کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ توانائی کے ذخائر، سمندری راستے، عالمی تجارت، مذہبی اثرات اور علاقائی سلامتی کے مسائل اس خطے کو دنیا کی سیاست کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کے اثرات واشنگٹن اور تہران سے کہیں آگے جا کر پورے عالمی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
اس بحران میں اسرائیل کا کردار محض ایک اتحادی ریاست کا نہیں بلکہ ایک ایسے فریق کا ہے جو ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بنیادی خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی بنا پر اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کیے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ اس کے برعکس ایران کا کہنا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت کسی جارحانہ توسیع پسندی کے لیے نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور بیرونی خطرات کے مقابلے کے لیے ہے۔ یہی متضاد زاویۂ نگاہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہونے نہیں دیتا۔
امریکہ کے لیے بھی یہ بحران صرف ایران تک محدود نہیں۔ واشنگٹن اسے اپنے عالمی اتحاد، مشرقِ وسطیٰ میں اثرورسوخ اور بین الاقوامی نظام میں اپنی قیادت برقرار رکھنے کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اسی لیے اس نے یورپی اتحادیوں، شمالی بحرِ اوقیانوس کے دفاعی اتحاد اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے۔ اگرچہ یورپ کے کئی ممالک جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن وہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ خطہ کسی ایسے تصادم کی طرف بڑھ جائے جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو۔
روس اور چین نے اس بحران میں نسبتاً محتاط حکمتِ عملی اختیار کی۔ دونوں ممالک ایک ایسے عالمی نظام کے حامی ہیں جس میں طاقت کا توازن صرف ایک ریاست کے گرد نہ گھومے، مگر ان کی خارجہ پالیسی بھی قومی مفادات کے تابع ہے۔ اسی لیے وہ ایک طرف ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہیں اور دوسری طرف براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں۔
خلیجی عرب ریاستوں کی صورتحال سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کی معیشت کا انحصار علاقائی استحکام، توانائی کی برآمدات اور عالمی سرمایہ کاری پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ مکمل محاذ آرائی سے بھی بچنا چاہتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں خطے کے بعض ممالک نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش بھی کی، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلسل کشیدگی کی قیمت سب سے پہلے خطے کے عوام اور معیشت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان کی پوزیشن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی، ثقافتی اور تجارتی روابط رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ اس کے اقتصادی اور سفارتی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ مزید برآں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں کسی ایک فریق کا غیر مشروط ساتھ دینا پاکستان کے طویل المدتی قومی مفاد کے مطابق نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے زیادہ مناسب راستہ وہی ہے جو اس نے عمومی طور پر اختیار کیا ہے؛ یعنی متوازن سفارت کاری، علاقائی استحکام، مذاکرات کی حمایت اور کسی بھی بڑے فوجی تصادم سے گریز۔ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کا کردار جنگی اتحادوں کا حصہ بننے کے بجائے اعتماد سازی، ثالثی اور امن کی کوششوں میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
اس بحران نے ذرائع ابلاغ کی طاقت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ اکیسویں صدی کی جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ اطلاعات کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع، اپنے مخالف کی کارروائی کو جارحیت اور اپنے مؤقف کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ، سماجی ذرائع ابلاغ، مصنوعی ذہانت، تصویری شواہد اور معلوماتی مہمات اب جدید جنگ کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہیں۔ اس لیے آج بیانیے پر غلبہ حاصل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا عسکری برتری حاصل کرنا۔
یہ بحران ایک اور حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ جدید دنیا میں صرف میزائل، طیارے اور جنگی جہاز ہی طاقت کا معیار نہیں رہے۔ مضبوط معیشت، مؤثر سفارت کاری، ادارہ جاتی استحکام، سائنسی ترقی، قومی اتحاد اور عالمی اعتماد بھی قومی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ جو ریاستیں ان تمام عناصر میں توازن قائم کرتی ہیں، وہی عالمی سیاست میں دیرپا اثرورسوخ حاصل کرتی ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اصل میدان صرف سرحدیں نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت، اطلاعات، قانون اور عالمی رائے عامہ بھی ہے۔ اسی میدان میں آنے والے برسوں کا فیصلہ بھی ہوگا کہ کون سا سیاسی نظام، کون سی حکمتِ عملی اور کون سا سفارتی بیانیہ زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔
طاقت، امن اور مستقبل کی عالمی
اگر اس پورے بحران کا غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں اپنی اپنی طاقتوں اور کمزوریوں کے ساتھ اس تصادم میں داخل ہوئے ہیں۔ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری، مالی اور سفارتی طاقت ہے۔ اس کی عالمی اتحادیوں تک رسائی، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط معیشت، عالمی مالیاتی اداروں پر اثرورسوخ اور وسیع سفارتی نیٹ ورک اسے غیر معمولی برتری عطا کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں میں شدید پابندیوں، سیاسی تنہائی اور مسلسل دباؤ کے باوجود اپنی ریاستی بقا، دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثرورسوخ کو برقرار رکھا ہے۔ یہ خود اپنی جگہ ایک اہم حقیقت ہے۔
تاہم، طاقت صرف ہتھیاروں کی تعداد کا نام نہیں۔ جدید ریاستوں کی اصل قوت ان کے اداروں کی ہم آہنگی، پالیسی کے تسلسل، اقتصادی استحکام، سفارتی اعتبار اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر اکیسویں صدی میں ریاستوں کا حقیقی مقام متعین ہوتا ہے۔
ایران کے سیاسی نظام نے انقلاب کے بعد ریاستی استحکام، نظریاتی تسلسل اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اسی نظام کے بارے میں عالمی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں مختلف طاقتور اداروں کے کردار کی وجہ سے بعض اوقات بیرونی دنیا کے لیے فیصلہ سازی کا مرکز پوری طرح واضح نہیں رہتا۔ یہ تاثر، خواہ درست ہو یا غلط، سفارتی سطح پر ایران کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کا آئینی اور جمہوری نظام اختیارات کی تقسیم، آزاد عدلیہ، آزاد ذرائع ابلاغ اور مسلسل عوامی احتساب کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہی عناصر اس کی طاقت بھی ہیں اور بعض اوقات اس کی کمزوری بھی، کیونکہ داخلی سیاسی اختلافات خارجہ پالیسی کے تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ادارہ جاتی استحکام امریکہ کی سب سے بڑی قوت سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ معاہدے صرف اس وقت دیرپا ثابت ہوتے ہیں جب دونوں فریق ان پر مسلسل عمل درآمد کریں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس پر غیر منصفانہ دباؤ ڈالا گیا اور امریکہ نے اپنی بعض ذمہ داریوں سے انحراف کیا، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر معاہدے کی شرائط پوری نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان متضاد مؤقفوں کی موجودگی میں یہ کہنا آسان نہیں کہ تمام ذمہ داری صرف ایک فریق پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ باہمی اعتماد کے کمزور ہونے نے سفارت کاری کو نقصان پہنچایا اور عسکری کشیدگی کے امکانات بڑھا دیے۔
اسرائیل کے لیے یہ تنازع قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، جبکہ خلیجی عرب ریاستوں کے لیے معاشی استحکام اور علاقائی امن بنیادی ترجیح ہیں۔ یورپ سفارت کاری کو زندہ رکھنا چاہتا ہے، روس اور چین طاقت کے عالمی توازن کو اپنے مفادات کے مطابق دیکھتے ہیں، اور امریکہ اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تمام منظرنامے میں پاکستان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ سفارت کاری کو ترجیح دے، کیونکہ اس کے قومی مفادات کا تقاضا یہی ہے کہ خطے میں جنگ کے بجائے امن اور مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔
اس بحران نے ایک اور بنیادی حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ اکیسویں صدی میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب جنگ صرف توپوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں سے نہیں لڑی جاتی۔ معیشت، سائبر ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ذرائع ابلاغ، اطلاعات، اقتصادی پابندیاں، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون بھی طاقت کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ جو ریاست صرف عسکری قوت پر انحصار کرے گی، وہ طویل مدت میں اپنی برتری برقرار نہیں رکھ سکے گی۔
بین الاقوامی سیاست کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ یہاں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن؛ مستقل صرف قومی مفادات ہوتے ہیں۔ یہی مفادات کبھی مذاکرات کو جنم دیتے ہیں اور کبھی جنگ کو۔ یہی مفادات آج کے حریف کو کل کا شریکِ کار بھی بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی بحران کا تجزیہ جذبات کے بجائے حقائق، اداروں، معیشت، سفارت کاری اور قومی مفادات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔
شاید اس پورے بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ فوجی طاقت دشمن کو نقصان تو پہنچا سکتی ہے، لیکن پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتی۔ عراق، افغانستان، شام اور لیبیا کے تجربات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جنگ جیت لینا اور امن قائم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ریاستوں کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ وہ کتنی جنگیں جیتتی ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے بحرانوں کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روک لیتی ہیں۔
ایران اور امریکہ کا موجودہ تصادم صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے عالمی نظام کا ایک امتحان بھی ہے۔ ایک طرف طاقت، مفادات اور سلامتی کی سیاست ہے، تو دوسری طرف بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور ادارہ جاتی استحکام کا تصور۔ تاریخ شاید برسوں بعد یہ فیصلہ دے کہ اس بحران میں عسکری لحاظ سے کون زیادہ طاقتور تھا، لیکن تہذیبیں ہمیشہ ان قوموں کو زیادہ احترام دیتی ہیں جو طاقت کو انتقام کے بجائے استحکام، تصادم کے بجائے مفاہمت، اور جنگ کے بجائے امن کے قیام کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
آخرکار، آنے والی دنیا کی قیادت صرف وہ ریاست نہیں کرے گی جس کے پاس سب سے زیادہ میزائل، جنگی طیارے یا بحری بیڑے ہوں، بلکہ وہ ریاست کرے گی جو اپنی عسکری قوت کو سیاسی بصیرت، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اقتصادی استحکام، سفارتی اعتبار اور بین الاقوامی اعتماد میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اکیسویں صدی کی حقیقی سپر پاور وہ نہیں جو سب سے زیادہ جنگیں جیتے، بلکہ وہ ہے جو سب سے زیادہ پائیدار امن قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔