شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب سمندر پر لاپتا، 5 عملہ سوار

کراچی(ویب ڈیسک) شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب بحیرۂ عرب کے اوپر دورانِ پرواز لاپتا ہوگیا۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میں عملے کے پانچ ارکان سوار تھے، جبکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق K2 ایئرویز کی کارگو پرواز KTA1732، بوئنگ 737-400 (رجسٹریشن: AP-BOI) شارجہ سے کراچی آرہی تھی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق رات 9 بج کر 18 منٹ پر کراچی سے تقریباً 150 ناٹیکل میل جنوب میں فضائی راستہ G216 پر طیارے نے نیویگیشن میں خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے رہنمائی طلب کی، جس پر اسے موجودہ راستہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

تاہم رات 9 بج کر 21 منٹ پر طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں ریڈار سے غائب ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق لاپتا طیارے میں پانچ رکنی عملہ سوار تھا، جن میں کپتان محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق، انجینئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لیے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نجی کمپنی کے دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول حکام کے مطابق پائلٹ نے آخری رابطے کے دوران “Mayday” ایمرجنسی کال نہیں دی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اچانک پیش آنے والی ہنگامی صورتحال کے باعث اسے اس کا موقع نہ مل سکا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ طیارہ فنی خرابی کے باعث مرمت کے لیے شارجہ بھیجا گیا تھا، جہاں وہ پانچ روز تک زیرِ مرمت رہا۔ مرمت کے بعد اسے فیری فلائٹ (بغیر کارگو) کے طور پر کراچی واپس لایا جا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق طیارے کی مرمت Northern Techniques نامی کمپنی نے کی تھی۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فوری طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ بحیرۂ عرب میں لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے مختلف ادارے مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستانی فضائیہ بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں