کراچی/سکھر(رپورٹ: تاج رند) پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ پانچ سال قبل سکھر سے اغوا ہونے والی پریا کماری کے بارے میں انہیں، پولیس اور اس کے والدین کو معلوم ہے کہ وہ سکھر کے کس بااثر شخص کے پاس ہے، تاہم اس کے باوجود اس کی بازیابی نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بات انہوں نے سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے اجلاس کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پریا کماری اغوا کیس، نوکوٹ سے اغوا ہونے والے ہریش کمار کے معاملے اور سندھ میں مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نیلم کماری، پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار، صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ، ایم این اے رانا ہمیر سنگھ، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر ڈاکٹر شام سندر، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہاسیجا، روما مشتاق مٹو، ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب پٹھان، ڈی آئی جی میرپورخاص فیصل عبداللہ چاچڑ اور دیگر حکام شریک ہوئے۔
ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب پٹھان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جن ڈاکوؤں پر پریا کماری کے اغوا کا شبہ تھا، ان میں سے ایک ملزم راہب شر جیل میں ہے جبکہ فرید میرانی اور اس کا بھائی پولیس مقابلے میں مارے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملزمان کی ہلاکت کے بعد واضح ہوا کہ پریا کماری ان کے پاس نہیں تھی، جبکہ پولیس گزشتہ پانچ برس شکوک و شبہات کی بنیاد پر غلط سمت میں تحقیقات کرتی رہی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر ڈاکٹر شام سندر نے سوال کیا کہ آیا پریا کماری زندہ ہے یا نہیں؟ جس پر ڈی آئی جی سکھر نے کہا کہ وہ کوئی منفی بات نہیں کریں گے اور انہیں امید ہے کہ پریا کماری کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش کمار نے کہا کہ انہیں، پولیس اور پریا کماری کے والدین کو معلوم ہے کہ وہ سکھر کے کس بااثر شخص کے پاس ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی، جو ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوال ہے اور اس سے ریاست کی بدنامی ہو رہی ہے۔
اس پر ڈی آئی جی سکھر نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ جن افراد کے نام سامنے آئے، ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق سندھ حکومت پریا کماری کی بازیابی کے لیے سنجیدہ ہے، تحقیقات جاری ہیں، تاہم مزید وقت درکار ہے۔
قائمہ کمیٹی نے پولیس کو مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے پریا کماری کی بازیابی کے لیے الگ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے اور ہر ماہ پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بھی ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
اجلاس میں ڈیڑھ ماہ قبل نوکوٹ سے اغوا ہونے والے ہریش کمار کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ڈی آئی جی میرپورخاص فیصل عبداللہ چاچڑ نے اوپن ہاؤس کے بجائے اِن کیمرا بریفنگ دینے کی درخواست کی اور مغوی کی بازیابی کے لیے مزید مہلت طلب کی۔
اجلاس کے دوران سکھر اور لاڑکانہ ریجن میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بدامنی کے باعث کراچی منتقل ہونے والے افراد دوبارہ کندھ کوٹ اور کشمور واپس جا رہے ہیں۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نیلم کماری نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کشمور میں امن کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات آٹھ بجے سکھر سے گزرتے ہوئے سڑکوں پر کوئی گاڑی نظر نہیں آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی بدامنی کے باعث خوف کا شکار ہیں۔
یاد رہے کہ ضلع سکھر کے سنگرار شہر سے 19 اگست 2021 کو دس محرم کے دن شہداء کربلا کی یاد میں سبیل تقسیم کرتے پریا کماری بنت راجومل لاپتہ ہوگئی تھی، تب اس کی عمر 7 سال تھی.
پریا کماری کی بازیابی کیلئے لیاقت جلبانی اور سوہنی پارس کی قیادت میں قائم پریا کماری ایکشن کمیٹی کی جانب سے عرصہ دراز سے احتجاجی تحریک جاری ہے، گذشتہ ایک ہفتے سے ببرلوء بائی پاس پر ایکشن کمیٹی کی جانب سے پریا کماری ودیگر اغوا شدہ بچوں کی بازیابی کیلئے احتجاجی دہرنا جاری ہے.
Hi,
I noticed your website http://theindustribune.com is newly launched—congratulations on getting it live!
At this stage, setting up a strong SEO foundation is crucial so search engines can properly crawl, index, and understand your site.
I help new websites with essential SEO setup including keyword structure, meta tags, technical SEO, sitemap indexing, and Google Search Console configuration.
Would you like me to share a few quick recommendations to improve your website’s early visibility?
Best regards,
Anaya