چاروں صوبوں کا جیل اصلاحات پر اتفاق، اسلام آباد اعلامیے پر دستخط

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کی میزبانی میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی) کے تحت منعقدہ قومی کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے جیلوں میں جامع اصلاحات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری اور عوامی تحفظ کا بھی اہم تقاضا ہیں۔

کانفرنس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے اشتراک سے ملک گیر جیل اصلاحات کے لیے مشترکہ فریم ورک تیار کرنا تھا۔ اس موقع پر اسلام آباد اعلامیہ برائے جیل اصلاحات پر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز، سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے دستخط کیے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں، اس لیے مؤثر اصلاحات کے لیے ادارہ جاتی تعاون اور صوبائی قیادت کا مستقل کردار ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف انسانی وقار کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنی تنہائی کی قید کے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تجربے نے انہیں جیلوں میں اصلاحات کی ضرورت کا احساس دلایا۔ انہوں نے کہا کہ جیل کبھی بھی انسانی وقار کے منافی سزا نہیں بننی چاہیے۔ ان کے مطابق پنجاب میں اس وقت 45 اصلاحی مراکز موجود ہیں جہاں 39 ہزار قیدیوں کی گنجائش کے مقابلے میں تقریباً 69 ہزار قیدی رکھے گئے ہیں، جبکہ ان میں سے تقریباً تین چوتھائی زیرِ سماعت مقدمات کے قیدی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں کی فوری مدد کے لیے پینک بٹن نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے، جہاں ان کی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان قید ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ عمران خان کو بیرون ملک مقیم اپنے دو بیٹوں سے ای وزٹ کے ذریعے رابطے کی اجازت دی جائے اور اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے آنے والوں کے لیے سایہ دار انتظامات کیے جائیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوآبادیاتی دور کے جیل قوانین میں اصلاحات کسی ایک سیاسی شخصیت کے لیے نہیں بلکہ ہزاروں عام قیدیوں کی فلاح کے لیے کی جا رہی ہیں، جو برسوں سے جیلوں میں قید ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ قیدیوں کی بحالی سندھ حکومت کے وژن کا بنیادی حصہ ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی قیدی مالی وسائل کی کمی کے باعث قانونی امداد سے محروم نہ رہے۔

اسلام آباد اعلامیے میں اس امر کا اعتراف کیا گیا کہ ملک کی جیلیں گنجائش سے زائد قیدیوں، زیرِ سماعت مقدمات کے حامل قیدیوں کی بڑی تعداد، کمزور بنیادی ڈھانچے، محدود طبی و ذہنی صحت کی سہولتوں اور بحالی، تعلیم و فنی تربیت کے ناکافی مواقع جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔

اعلامیے کے تحت صوبوں نے غیر ضروری قید میں کمی، زیرِ سماعت قیدیوں کے لیے ضمانت، قانونی امداد، پروبیشن، پیرول اور دیگر متبادل اقدامات کو فروغ دینے، خصوصاً خواتین، بچوں، معذور افراد، ذہنی امراض میں مبتلا افراد اور معمولی جرائم میں گرفتار افراد کے لیے خصوصی اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔

اعلامیے میں جیل قوانین، انتظامی طریقہ کار اور متعلقہ پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لینے، جیلوں کے بنیادی ڈھانچے، صفائی، غذائیت، صحت، ذہنی صحت کی سہولتوں اور تشدد سے تحفظ کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے، جبکہ تعلیم، فنی تربیت، نفسیاتی معاونت، منشیات کے علاج، مہارتوں کی ترقی اور رہائی کے بعد بحالی کے پروگراموں کو وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

اس کے علاوہ جیل حکام، پولیس، پراسیکیوشن، پروبیشن و پیرول سروسز، قانونی امدادی اداروں، صحت اور سماجی بہبود کے محکموں اور عدلیہ کے درمیان مؤثر رابطے بڑھانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ مقدمات کی بروقت سماعت اور انصاف کی جلد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اعلامیے کے مطابق جیل اصلاحات سے متعلق قومی رابطہ نظام کو باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹس پیش کی جائیں گی، جن میں جیلوں میں بھیڑ کم کرنے، حراستی حالات بہتر بنانے، غیر قیدی متبادل اقدامات کے فروغ اور بحالی کی خدمات کو مضبوط بنانے سے متعلق پیش رفت شامل ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں