سکھر (رپورٹ: تاج رند) سکھر کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنان نے جنسی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے فوری طور پر مؤثر ادارے قائم کیے جائیں۔
“عالمی سولہ روزہ مہم برائے انسداد صنفی تشدد” کے سلسلے میں ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے آواز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سکھر کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان، دیہی خواتین، خواتین پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی۔

اداروں کا بجٹ ہونے کے باوجود متاثرین بے سہارا
سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق چیئرمین اقبال ڈیتھو نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں صنفی تشدد روکنے اور متاثرہ خواتین کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت کے مختلف محکموں کو سالانہ 44 کروڑ روپے بجٹ دیا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود جیلوں اور دارالامان میں موجود کئی خواتین قانونی امداد نہ ملنے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانونی امداد کے لیے مختص بجٹ خرچ نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال کروڑوں روپے لیپس ہو جاتے ہیں۔
’’عورت کو برابر کا انسان نہیں سمجھا گیا‘‘
اقبال ڈیتھو نے مزید کہا کہ مذاہب سے لے کر پدرشاہی سماج تک عورت کو برابر کا انسان نہیں سمجھا گیا۔ مرد کے تین بار طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے، جبکہ عورت خلع مانگے تو سیاہ کاری جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 1872 کا کرسچن میرج ایکٹ تاحال ترمیم سے محروم ہے، جس میں مسیحی خواتین کو خلع لینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
جیلوں کی منتقلی سے ہزاروں افراد متاثر
سابق چیئرمین نے کہا کہ لاڑکانہ میں بینظیر بھٹو کے قائم کردہ جونائیل جیل کو موجودہ حکومت نے بند کر کے کم عمر اور خواتین قیدیوں کو سکھر جیل منتقل کر دیا ہے، جس سے شہدادکوٹ اور قبوسعید خان کے غریب خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پولیس اصلاحات اور خواتین کا تحفظ
وومین پروٹیکشن سیل سکھر رینج کی انچارج رخسانہ منگی نے کہا کہ ریپ کیسز میں متاثرہ خواتین مرد تفتیشی افسران کے سامنے بیان قلم بند نہیں کر پاتیں، لہٰذا ایسے مقدمات میں خواتین پولیس افسران کو تفتیش سونپی جانی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں برس سکھر رینج آفس میں صنفی تشدد کے 626 کیسز رپورٹ ہوئے۔
بچوں پر تشدد گھروں سے شروع ہوتا ہے
چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے انچارج زبیر مہر نے کہا کہ بچوں پر تشدد کی ابتداء گھر سے ہوتی ہے، والدین بچوں سے مشقت والا کام کرواتے ہیں، جبکہ ان کے موبائل فون اور سرگرمیوں پر بھی نگرانی نہیں رکھتے، جس کے باعث ہر سال بے شمار بچے لاپتہ ہوجاتے ہیں۔
مہم کا مقصد مثبت سماجی تبدیلی
ناری فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انور مہر نے کہا کہ 16 روزہ ایکٹیوازم مہم کا مقصد معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دینا، صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانا اور دیہی خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔
دیگر مقررین کے خیالات
سیمینار سے سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند، ڈی ایس پی زہرا شاہ، زینت گجر، پیپلز پارٹی رہنما عذرا جمال، غزالہ انجم، شبانہ خاکی، ڈورس مظہر، سائرہ لاشاری، سماجی رہنما بابو سچل مہر، ثمرین نجیب لاکھو، شکیلہ کنول اور خانزادی چاچڑ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔