امریکہ۔ایران مفاہمتی یادداشت: جنگ کا اختتام یا ایک نئے باب کا آغاز؟

ڈاکٹر احمد علی میمن
بین الاقوامی سیاست میں بعض مفاہمتی یادداشتیں محض سفارتی دستاویزات نہیں ہوتیں بلکہ وہ تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بھی ایک ایسا ہی واقعہ معلوم ہوتا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگرچہ اس یادداشت کی تمام شقیں ابھی سرکاری طور پر منظرِ عام پر نہیں آئیں اور بعض نکات مختلف ذرائع سے سامنے آئے ہیں، تاہم جو معلومات بین الاقوامی اخبارات اور خبررساں اداروں کے ذریعے سامنے آئی ہیں، ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ صرف جنگ بندی کی یادداشت نہیں بلکہ ایک سیاسی، معاشی اور تزویراتی مفاہمت کی بنیاد ہے۔

گزشتہ کئی ماہ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک سطح تک پہنچ چکی تھی۔ خلیج فارس میں عسکری نقل و حرکت، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں، اقتصادی پابندیاں، جوابی حملوں کی دھمکیاں اور خطے میں پراکسی تنازعات نے عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ دنیا کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ اگر یہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہوگئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی سب اس کی زد میں آ جائیں گے۔

اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مفاہمت کی بنیادی شق مستقل جنگ بندی ہے۔ دونوں ممالک نے براہِ راست عسکری کارروائیوں کو روکنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی شق معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ نکتہ ہے جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچا لیا ہے۔

مفاہمت کا دوسرا اہم پہلو آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ کشیدگی کے دوران اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت کے خدشات نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خوف دنیا بھر کی معیشتوں پر منڈلا رہا تھا۔ مفاہمت کے بعد آبنائے ہرمز کے کھلنے سے نہ صرف عالمی تجارت کو سہارا ملے گا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام بھی پیدا ہوگا۔

ایران کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس مفاہمت کا سب سے بڑا فائدہ اقتصادی محاذ پر نظر آتا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق امریکہ بعض پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے محدود رعایتوں اور منجمد اثاثوں کے اجرا پر غور کر رہا ہے۔ اگر یہ اقدامات عملی صورت اختیار کرتے ہیں تو ایران کی معیشت کو ایک بڑا سہارا مل سکتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سخت اقتصادی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ افراطِ زر، بے روزگاری اور مالی مشکلات نے عام ایرانی شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس تناظر میں اقتصادی ریلیف ایران کے لیے ایک اہم کامیابی سمجھی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ بھی اس یادداشت سے خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح خطے میں استحکام، عالمی توانائی کی ترسیل کا تحفظ اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں یقین دہانیاں حاصل کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور آئندہ مذاکرات میں بین الاقوامی نگرانی کے نظام پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اگرچہ یہ حتمی جوہری معاہدہ نہیں، تاہم امریکہ کے لیے یہ ایک سفارتی کامیابی ضرور ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آیا ہے۔

تاہم اس یادداشت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی اپنی عوام کے سامنے اسے کامیابی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ ایران یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنے سیاسی نظام، خودمختاری اور جوہری انفراسٹرکچر کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی فوائد حاصل کیے ہیں۔ امریکہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے جنگ کے بغیر اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر لیے ہیں، یعنی آبنائے ہرمز کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور جوہری مذاکرات کی بحالی۔

اس تمام منظرنامے میں ایک اہم سوال اسرائیل کا بھی ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا موقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری صلاحیت کے قریب پہنچنے کی بھی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کو اسرائیل مکمل اطمینان کی نظر سے نہیں دیکھ رہا۔ اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایران کو اقتصادی ریلیف ملنے سے اس کی علاقائی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

خلیجی عرب ممالک کے لیے بھی یہ معاہدہ دوہری نوعیت رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں کیونکہ جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو پہنچ سکتا ہے۔ دوسری طرف انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ ایران کی اقتصادی بحالی اسے خطے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ لہٰذا خلیجی ممالک اس معاہدے کو امید اور احتیاط، دونوں زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔

اس یادداشت کے باوجود کئی بنیادی مسائل ابھی حل طلب ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام کی تفصیلات ہیں۔ یورینیم افزودگی کی حد کیا ہوگی؟ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو کتنی رسائی حاصل ہوگی؟ جوہری تنصیبات کے مستقبل کا فیصلہ کیسے ہوگا؟ یہ تمام سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ اسی طرح ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ تعلقات اور امریکہ کی طویل المدت پابندیوں کے بارے میں بھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس یادداشت کو ایک مکمل امن معاہدے کے بجائے “وقفۂ تنازع” کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اصل امتحان آنے والے ساٹھ دن ہوں گے جن کے دوران فریقین کو تفصیلی مذاکرات کے ذریعے ان پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہو سکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام رہے تو موجودہ مفاہمت محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس سارے معاملے کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت بھی ہے۔ دنیا اس وقت پہلے ہی متعدد اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں عالمی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں۔

ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی عالمی منڈیوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام، بحری تجارت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی اس مفاہمت کی خاص اہمیت ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور اقتصادی روابط موجود ہیں۔ خطے میں امن و استحکام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستان کی توانائی، تجارت اور علاقائی سفارت کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

بالآخر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت ایک تاریخی کامیابی ہے یا محض وقتی مفاہمت۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے دنیا کو ایک ممکنہ جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹایا ہے۔ یہ معاہدہ اگرچہ تمام مسائل کا حل نہیں، لیکن مذاکرات کے دروازے کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش ضرور ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر میز پر ختم ہوتی ہیں اور پائیدار امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، سفارتی حکمت اور باہمی مفاہمت سے حاصل ہوتا ہے۔

آنے والے ہفتے اور مہینے اس معاہدے کی اصل حیثیت کا تعین کریں گے۔ اگر فریقین اعتماد سازی، لچک اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ مفاہمت مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز بن سکتی ہے۔ لیکن اگر پرانے شکوک و شبہات، علاقائی رقابتیں اور داخلی سیاسی دباؤ غالب آ گئے تو یہ موقع بھی ماضی کی کئی ناکام کوششوں کی طرح تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتا ہے۔ فی الحال دنیا امید اور احتیاط کے درمیان کھڑی اس سفارتی پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں