ناصر حسین
“جئے سندھ” کسی ایک زبان، نسل یا خاندان کا نعرہ نہیں، بلکہ اس سرزمین کی تاریخی شناخت، ثقافتی ورثے اور اجتماعی وجود کے احترام کا اظہار ہے۔ جو بھی شخص سندھ کی دھرتی پر رہتا ہے، اس کی معیشت، روزگار، تعلیم اور مستقبل اسی سرزمین سے وابستہ ہے، اس لیے سندھ سے محبت اور اس کے وجود کا احترام کسی ایک قومیت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی کامیاب ریاستیں اور معاشرے اسی وقت مضبوط ہوئے جب وہاں بسنے والے مختلف نسلوں، زبانوں اور مذاہب کے لوگوں نے اپنی رہائش گاہ کو اپنی مشترکہ شناخت تسلیم کیا۔ امریکہ میں رہنے والا خواہ کسی بھی نسل سے ہو، خود کو امریکی کہتا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اپنے ملک کی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت سندھ میں رہنے والا ہر شخص، خواہ اس کی مادری زبان اردو ہو، پنجابی ہو، پشتو ہو، بلوچی ہو یا سرائیکی، سندھ کی سرزمین سے اپنی وابستگی کا اظہار کرے تو یہ کسی قوم کی شکست نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔
تقسیمِ ہند کے بعد لاکھوں اردو بولنے والے خاندان سندھ آئے۔ سندھ نے انہیں صرف پناہ نہیں دی بلکہ روزگار، کاروبار، تعلیم، شہریت اور زندگی کے نئے مواقع بھی فراہم کیے۔ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور دیگر شہروں نے انہیں اپنا حصہ بنایا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سندھ نے آنے والوں کو قبول کیا، اس لیے اس دھرتی کے احترام کا اظہار بھی فطری اور اخلاقی تقاضا ہے۔
“جئے سندھ” کا مفہوم کسی دوسری زبان یا شناخت کی نفی نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ، ثقافت، زبان، وسائل اور اجتماعی مفادات کے احترام کا اعلان ہے۔ جو شخص سندھ سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اپنی ہی سرزمین، اپنے ہی مستقبل اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل سے محبت کرتا ہے۔ ایسی محبت کسی قومیت کو کمزور نہیں بلکہ معاشرے کو مضبوط بناتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کسی خطے کی زبان، ثقافت اور تاریخی شناخت کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو وہاں احساسِ محرومی، بداعتمادی اور سماجی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب تمام باشندے مقامی شناخت کو عزت دیتے ہیں تو اعتماد، ہم آہنگی اور سیاسی استحکام فروغ پاتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں مقامی تاریخ اور ثقافت کا احترام ریاستی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی اردو بولنے والا “جئے سندھ” کہتا ہے تو وہ اپنی زبان یا آبائی تاریخ سے دستبردار نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ آج اس کا حال، اس کا مستقبل اور اس کی اولاد کا مقدر سندھ سے وابستہ ہے۔ جو شخص اس دھرتی سے محبت کرتا ہے، اس کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کرتا ہے، وہ دراصل اپنی ہی زندگی کے استحکام کی دعا کر رہا ہوتا ہے۔
“جئے سندھ” ایک جغرافیے سے وفاداری، ایک تہذیب کے احترام اور ایک مشترکہ مستقبل پر یقین کا اظہار ہے۔ مضبوط معاشرے وہی بنتے ہیں جہاں لوگ اپنی لسانی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی اس دھرتی کی اجتماعی شناخت کو دل سے قبول کرتے ہیں، کیونکہ آخرکار زمینیں ہی قوموں کو پناہ دیتی ہیں، اور جو اپنی زمین کا احترام کرتے ہیں، تاریخ بھی انہی کا احترام کرتی ہے۔
جئے سندھ کا مطلب ہے کہ،
سندھ ھميشہ آباد رہے ۔