جامشورو (انڈس ٹربیون) سندھ ایکشن کمیٹی کا اجلاس جامشورو میں جی ایم سید ایڈیفیس میں کنوینر سید زین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملکی اور سندھ کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر متوقع 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھ کے ساحل، وسائل، وحدت، مالیاتی حقوق یا دریائے سندھ پر کسی بھی قسم کی دست اندازی کی گئی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ کے وسائل، زمینوں، پانی اور دیگر قومی مفادات کی قیمت پر طویل اقتدار دیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ارب روپے کی کرپشن ہوئی، تاہم اس کے باوجود احتساب کا عمل مؤثر انداز میں نہیں کیا گیا۔
شرکا نے سندھ میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، پریس کلبوں اور بار کونسلوں پر مبینہ دباؤ اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ جیے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو کے پیٹرول پمپ کو مسمار کرنا بھی سیاسی انتقام کا حصہ ہے، جس کی سخت مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے جس کی بنیاد آئینی معاہدے اور قومی اکائیوں کے حقوق کے تحفظ پر ہے، تاہم نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری مباحث اور اقدامات وفاقی ڈھانچے کی روح کے منافی ہیں۔
اجلاس میں سندھ میں گیس اور بجلی کے وسیع ذخائر کے باوجود لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ سندھ اپنی پیداوار کے باوجود گیس اور بجلی سے محروم ہے جبکہ عوام بنیادی سہولتوں کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت پر گفتگو کرتے ہوئے اجلاس میں کہا گیا کہ 1991 کے پانی معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور ڈیموں میں پانی موجود ہونے کے باوجود سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث زرعی سرگرمیاں متاثر اور کئی علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اجلاس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، سفارش اور کرپشن کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ نتائج میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔
شرکا نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان ترامیم سے عدالتی نظام کمزور ہوا جبکہ پیکا ایکٹ کے ذریعے آزاد صحافت پر قدغن لگائی گئی ہے۔
اجلاس میں ماہرِ آبپاشی انجینئر اوبھایو خشک کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ بلوچستان سے اغوا ہونے والے سعید میمن کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان حکومتوں سے مؤثر اقدامات کی اپیل بھی کی گئی۔
اجلاس میں سید زین شاہ پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ چھ ماہ کے لیے سندھ ایکشن کمیٹی کا کنوینر منتخب کر لیا گیا۔
اجلاس میں سندھ بھر میں قومی کانفرنسوں کے سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق 18 جون کو حیدرآباد میں سندھ صوفی فورم، 2 جولائی کو دادو میں عوامی جمہوری پارٹی اور 16 جولائی کو سانگھڑ میں نیشنل پارٹی کی میزبانی میں قومی کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔
اجلاس میں ریاض علی چانڈیو، ڈاکٹر نیاز کالانی، سید مسرور شاہ، سید لال شاہ، تاج مری، نواز خان زنیور، الطاف خاصخیلی، پروفیسر آدم بٹ، ڈاکٹر بدر چنا، علامہ ایاز قمی سمیت مختلف قوم پرست اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔