آئین کے آرٹیکل 22 پر عملدرآمد: ہندو طلبہ کے لیے مذہبی نصاب متعارف کر دیا گیا

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ حکومت نے اقلیتی برادری کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کے لیے جماعت سوم، چہارم اور پنجم کی ہندو مذہبی درسی کتابوں کی پہلی کھیپ کی رونمائی کردی۔

تقریب سندھ اسمبلی میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ، صوبائی وزیر محصولات و محصولاتِ غیر مستقیم مکیش کمار چاولہ، ڈاکٹر شام سندر اور رکنِ سندھ اسمبلی مہیش کمار ہسیجا نے شرکت کی۔

اس موقع پر کہا گیا کہ یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22 کی شق (1) پر عمل درآمد کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کے تحت ہر طالب علم کو اپنے مذہب کے مطابق مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان درسی کتابوں کے ذریعے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طلبہ کو اپنے مذہب کی تعلیم فراہم کی جائے گی۔

تقریب کے شرکا نے اس پیش رفت کو اقلیتی برادری کے تعلیمی حقوق کے فروغ اور مساوی تعلیمی مواقع کی فراہمی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ درسی کتابیں بروقت تمام سرکاری اسکولوں تک پہنچائی جائیں اور ہندو مذہب کی تعلیم کے لیے اہل اساتذہ کی تقرری کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہر مستحق طالب علم اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں