سندھ: صرف سرزمین نہیں، ہماری شناخت ہے

حوریا قریشی
دنیا کے نقشے پر بہت سی سرزمینیں ہیں، مگر ہر سرزمین انسان کے وجود کا حصہ نہیں بنتی۔ کچھ زمینیں صرف رہنے کی جگہ ہوتی ہیں، جبکہ کچھ زمینیں انسان کو شناخت دیتی ہیں۔ سندھ انہی سرزمینوں میں سے ایک ہے۔ سندھ کو صرف جغرافیے کی حدود، دریاؤں، صحراؤں، شہروں اور دیہات کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں۔ سندھ ایک تہذیبی شعور ہے، ایک تاریخی حافظہ ہے اور ایک ایسا احساس ہے جو نسل در نسل انسان کے اندر منتقل ہوتا رہتا ہے۔

انسان جب اپنی شناخت کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلے اس کی مٹی، زبان، ثقافت اور اپنے بزرگوں کی یاد آتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سندھ محض ایک صوبہ نہیں رہتا بلکہ ایک جذباتی اور تہذیبی حقیقت بن جاتا ہے۔ اس سرزمین سے وابستگی کسی سیاسی نعرے یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ایک تاریخی رشتے کا نام ہے۔

سندھ کی مٹی میں ہمارے بزرگوں کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ ان لوگوں کے خواب، محنتیں، دکھ، خوشیاں اور قربانیاں اسی مٹی میں جذب ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان دنیا کے کسی بھی حصے میں چلا جائے، برسوں بعد بھی جب اسے اپنی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو اس کے اندر کوئی بھولی ہوئی یاد اچانک زندہ ہو جاتی ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی جڑیں صرف زمین میں نہیں ہوتیں، وہ اس کی یادداشت میں بھی پیوست ہوتی ہیں۔

دریائے سندھ اس تہذیب کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ دریا محض پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک مسلسل سفر ہے۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد ہوئیں، تہذیبیں پروان چڑھیں اور نسلوں نے اپنے خواب تعمیر کیے۔ دریائے سندھ نے وقت کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں، مگر اس کا سفر جاری رہا۔ شاید یہی سندھ کی سب سے بڑی علامت بھی ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، زمانے گزر جاتے ہیں، مگر تہذیبیں اپنی اصل سے جڑی رہیں تو زندہ رہتی ہیں۔

سندھ کی طاقت صرف اس کی قدامت میں نہیں، بلکہ اس کی ثقافتی تسلسل میں بھی ہے۔ سندھی زبان، اجرک، ٹوپی، لوک موسیقی، داستانیں، صوفی روایت، میلوں اور تہواروں میں ایک مکمل تہذیبی دنیا آباد ہے۔ زبان یہاں صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اجتماعی حافظہ ہے۔ ایک نسل جو الفاظ اپنی ماں سے سنتی ہے، وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے؛ ان میں پورا ماضی، پوری ثقافت اور پوری شناخت چھپی ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کی زبان کو کمزور کرنا محض ایک زبان کو کمزور کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اجتماعی حافظے کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ ثقافت کو نظرانداز کرنا صرف چند روایات کو بھولنا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کے تاریخی تسلسل سے محروم کرنا ہے۔ اس لیے اپنی زبان اور ثقافت سے محبت دراصل اپنے وجود کے ساتھ وفاداری ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اپنی سرزمین سے محبت کا مطلب دوسروں سے نفرت ہے؟ ہرگز نہیں۔

حقیقی محبت انسان کو متعصب نہیں بلکہ باشعور بناتی ہے۔ جو شخص اپنی مٹی سے محبت کرتا ہے، وہ دوسری مٹی کی قدر کرنا بھی جانتا ہے۔ اپنی شناخت کا دفاع کسی دوسرے کی شناخت مٹانے کا نام نہیں۔ سندھ سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی تاریخ کو سمجھیں، اس کی زبان کو زندہ رکھیں، اس کی ثقافت کا احترام کریں، اس کے وسائل، ماحول اور مستقبل کی حفاظت کریں اور یہاں بسنے والے ہر انسان کے لیے امن، عزت اور انصاف کی خواہش رکھیں۔

قومیں صرف ماضی پر فخر کرکے زندہ نہیں رہتیں۔ ماضی انہیں شناخت دیتا ہے، مگر مستقبل انہیں سمت دیتا ہے۔ اگر سندھ کی ہزاروں سالہ تاریخ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں صرف ماضی کی کہانیاں دیں گے یا ایک ایسا معاشرہ بھی دیں گے جس میں تعلیم، انصاف، روزگار، امن اور عزتِ نفس موجود ہو؟

یہی وہ مقام ہے جہاں محبتِ سندھ جذبات سے نکل کر ذمہ داری بن جاتی ہے۔

سندھ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار صرف یہ نہیں کہ ہم اس کا نام فخر سے لیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اس کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم اپنی زبان بولیں، اپنی ثقافت کو محفوظ رکھیں، اپنی تاریخ پڑھیں، اپنی نئی نسل کو اپنی جڑوں سے جوڑیں اور سب سے بڑھ کر ایسا سندھ بنانے کی کوشش کریں جہاں انسان اپنی شناخت کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکے۔

دنیا انسان کو بہت کچھ دے سکتی ہے۔ دولت، شہرت، بڑے شہر، شاندار عمارتیں اور آسائشیں شاید زندگی کو آسان بنا دیں، لیکن وہ چیز نہیں دے سکتیں جسے انسان اپنی مٹی سے حاصل کرتا ہے: تعلق۔

شاید اسی لیے سندھ سے محبت کرنے والے کے لیے دنیا کے تمام محل بھی اس ایک احساس کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو اپنی دھرتی پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے پیدا ہوتا ہے۔ جب مٹی پاؤں سے لپٹتی ہے تو انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں؛ اس کے پیچھے صدیوں کی ایک پوری داستان کھڑی ہے۔

اور پھر زندگی کے آخری مرحلے میں انسان کو اپنی تمام دولت، شہرت اور آسائشیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اس وقت شاید سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ جس مٹی نے زندگی بھر پالا، آخرکار اسی مٹی میں واپس لوٹ جایا جائے۔

اگر مجھے بھی کبھی اپنی آخری آرام گاہ کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا جائے تو میں کسی محل، سنگِ مرمر یا شان و شوکت کی خواہش نہیں کروں گا۔ میری خواہش صرف اتنی ہوگی کہ میری آخری مٹی وہی ہو جس نے مجھے میری شناخت دی، جس کی خوشبو میری یادوں میں بسی ہے اور جس سے میرے بزرگوں کا رشتہ جڑا ہوا ہے۔

کیونکہ انسان آخرکار وہیں لوٹتا ہے جہاں سے اس کی کہانی شروع ہوئی تھی۔

سندھ صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں؛ یہ ہماری تہذیبی یادداشت، ہماری زبان، ہماری ثقافت اور ہماری شناخت کا نام ہے۔ یہ ماضی کی میراث بھی ہے اور مستقبل کی ذمہ داری بھی۔

اور شاید سندھ سے محبت کی سب سے سچی تعریف یہی ہے کہ ہم اسے صرف یاد نہ کریں، بلکہ اسے سمجھیں؛ صرف اس پر فخر نہ کریں، بلکہ اس کے مستقبل کے لیے کردار ادا کریں۔

سندھ کی مٹی ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں؛ وہ ہم سے یہ سوال بھی کرتی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے۔

یہ سوال ہی دراصل ہماری محبت کا امتحان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں