تاج رند
عظیم شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ ’’اے میرے دوست! میں نے جینے کے لیے کتنی بڑی جستجو کی ہے۔‘‘ یقیناً زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے، لیکن بیشتر لوگ خواب تو بڑے دیکھتے ہیں، مگر ان خوابوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے بہت جلد تھک کر ہار مان لیتے ہیں۔ یوں مایوسی ان کی زندگی کو اندھیروں کی طرف لے جاتی ہے۔
مگر ضلع شکارپور (سندھ) کے چھوٹے سے گاؤں مینگل رند کے رہائشی ذوالفقار رند شاہ لطیف کے اس فکر کا سرچشمہ ہیں کہ ’’اگر پاؤں نے چلنا چھوڑ دیا تو میں کہنیوں کے بل اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھوں گا۔‘‘
خیمہ نما جھونپڑی میں ایک غریب کسان کے گھر میں جنم لینے والے ذوالفقار رند جب صرف دو سال کے تھے تو پولیو کا شکار ہوکر ایک بازو اور ایک ٹانگ سے معذور ہوگئے۔ غربت اور تنگ دستی کے باوجود ان کے کسان والد مولا بخش نے انہیں مقامی سرکاری اسکول سے ہائیر سیکنڈری تعلیم تک پہنچایا۔

یوں ذوالفقار رند نے 12 سال تک تپتی دھوپ اور سخت سردیوں میں اپنے گاؤں سے قریبی شہر میاں صاحب تک روزانہ پانچ کلومیٹر پیدل سفر کرکے اپنی منزل کی طرف قدم بڑھائے۔ کئی بار اسکول جاتے ہوئے راستے میں گاؤں کے کتے انہیں گھیر لیتے۔ جسمانی معذوری کے باعث وہ نہ بھاگ سکتے تھے اور نہ مزاحمت کر سکتے تھے، لہٰذا اپنی حفاظت کے لیے چیختے چلاتے، جس کے بعد گاؤں والے پہنچ کر انہیں کتوں سے چھڑاتے تھے۔
وہ نویں جماعت میں تھے کہ ایک دن والد نے انہیں مدرسے میں بٹھا دیا۔ دوسرے روز مولوی صاحب نے چندے کی پیٹی ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، ’’جاؤ، مدرسے کے لیے چندہ لو۔ تم معذور ہو، لوگ تمہیں دل کھول کر چندہ دیں گے۔‘‘
لیکن ذوالفقار نے مولوی صاحب کے اس حکم کو اپنی خودداری پر حملہ محسوس کیا اور تہیہ کرلیا کہ وہ چندے کے نام پر بھیک نہیں مانگیں گے۔
کچھ ہی دنوں بعد ان کی اپنے ہی اسکول میں معروف آرٹسٹ اور استاد عبدالخالق چنہ سے ملاقات ہوئی، جو ان کی زندگی میں روشنی کی نوید ثابت ہوئے۔ انہوں نے ذوالفقار کا ہاتھ تھام کر انہیں مصوری کی دنیا کا راستہ دکھایا۔
یوں ذوالفقار نے اپنے محسن استاد کی سرپرستی میں مصوری کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا ایسا اظہار کیا کہ ان کے فن کا سفر آگے بڑھتا گیا۔ ذوالفقار نے عہد کیا کہ وہ مصوری (آرٹس) ہی میں گریجویشن کریں گے۔
خواب تو بڑا تھا، لیکن معاشی تنگ دستی کا یہ عالم تھا کہ یونیورسٹی کی فیس کی ادائیگی تو دور کی بات، ان کے پاس کراچی یا لاہور تک جانے کے سفری اخراجات بھی نہیں تھے۔ لیکن کہتے ہیں کہ ’’ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔‘‘
2015 میں انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ دیا اور اچھے نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی۔ مگر جب داخلہ فیس کا چالان ملا تو زمین پاؤں تلے نکل گئی۔
بالآخر ان کے بڑے بھائی عبدالقادر نے اپنے گھر کی واحد ملکیت، ایک بھینس، فروخت کردی اور چند دوستوں کی مدد سے ذوالفقار این سی اے کے شعبۂ بیچلر آف فائن آرٹس میں منی ایچر پینٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
ان کے بقول، نیشنل کالج آف آرٹس میں شعبے کے سربراہ پروفیسر قدوس مرزا جیسے قدردان استاد نے نہ صرف ان پر دستِ شفقت رکھا بلکہ ان کی زندگی اور حصولِ تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن مدد بھی کی۔

2019 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد وہ آرٹ ورک کے سلسلے میں کراچی چلے گئے۔ وہاں انہوں نے مختلف شوز میں اپنا فن پیش کیا۔ دنیا بھر سے آنے والے مصوروں نے ان کے کام کو پسند کیا اور خوب سراہا۔
معذوری پر ایک اور آزمائش
پولیو کے باعث ذوالفقار پہلے ہی جسمانی معذوری کا سامنا کر رہے تھے کہ 2023 میں کراچی میں پیش آنے والے ایک سڑک حادثے نے ان کی زندگی کو ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔
دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے گرنے کے نتیجے میں ان کی پولیو سے متاثرہ ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ٹراما سینٹر کراچی میں ڈاکٹر غضنفر علی شاہ کی ذاتی کوششوں سے ان کا فوری طور پر بڑا آپریشن کیا گیا۔

حادثے کے بعد بھی ذوالفقار نے ہمت نہ ہاری اور چھ ماہ تک اکیلے ہسپتال کے چکر کاٹتے رہے۔ کبھی کبھار ان کے دوست زبیر رند مدد کے لیے آجاتے تھے۔
آرٹ ورک سے انہوں نے جو رقم کمائی تھی، وہ حادثے کے بعد علاج پر خرچ ہوگئی۔ معالج نے مشورہ دیا کہ چونکہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو راڈ کے ذریعے جوڑا گیا ہے، اس لیے روزانہ کی بنیاد پر فزیوتھراپی ضروری ہے۔ لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث یہ سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔
بالآخر ذوالفقار کو مجبوراً فزیوتھراپی بند کرانا پڑی۔ ان کے مطابق، ٹانگ کی حرکت محدود ہوگئی اور اب انہیں چلنے کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں بھی شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ان کا پاؤں مکمل طور پر بے جان ہوجاتا ہے، تاہم فزیوتھراپی کرانے سے اس میں دوبارہ حرکت محسوس ہونے لگتی ہے۔

ٹانگ ٹوٹی، مگر خوابوں کو ٹوٹنے نہ دیا۔
ذوالفقار رند کراچی میں زیرِ علاج ہی تھے کہ ان کے محسن استاد اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور کے ڈین، فیکلٹی آف اسکول آف ویژول آرٹس اینڈ ڈیزائن، پروفیسر راشد رانا نے ان سے رابطہ کرکے خیریت دریافت کی۔
ذوالفقار کے مطابق، پروفیسر راشد رانا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ماسٹرز کے لیے لاہور آجائیں، کیونکہ سندھ میں ان کی صلاحیتوں کی وہ قدر نہیں ہوگی جس کے وہ مستحق ہیں۔
ذوالفقار نے یہ پیشکش قبول کی اور اسکالرشپ پر بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں ماسٹرز آف آرٹس کے پروگرام میں داخلہ لے لیا۔
وہاں ان کا فن Body Limitations یعنی جسمانی حدود کے تصور پر مبنی ہے، جس میں انسانی جسم کی جسمانی اور ذہنی حدود کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں:
’’میں اپنے کام میں ویڈیو آرٹ اور منی ایچر پینٹنگ کے ذریعے جسم، جگہ، پابندی اور آزادی کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہوں۔ میرا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ جسم کی حدود ہماری حرکت، سوچ اور شناخت پر کیسے اثر ڈالتی ہیں۔ اپنے کام کے ذریعے میں انسانی جسم کو ایک مختلف نظر سے پیش کرنے اور اس کی حدود کے اندر چھپے معنی کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار نے گریجویشن سے لے کر ماسٹرز تک اپنے فن میں معذور افراد کے تجربات اور مشکلات کو موضوع بنایا ہوا ہے۔ ان کے بیشتر فن پاروں میں ان کی اپنی زندگی کی وہ دردناک کہانیاں جھلکتی ہیں جن کا سامنا وہ بچپن سے کرتے آرہے ہیں۔
لاہور میں پذیرائی، سندھ حکومت سے شکوہ
ذوالفقار رند کہتے ہیں کہ لاہور میں ان کی صلاحیتوں کی قدر کی گئی۔ نیشنل کالج آف آرٹس اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انہیں اسکالرشپ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی اور حصولِ تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مختلف سہولیات بھی فراہم کیں۔
ان کے مطابق، حادثے کے بعد جب وہ ماسٹرز آف آرٹس کے لیے لاہور گئے تو معروف آرٹسٹ پروفیسر محبوب جوکھیو نے چھ ماہ تک انہیں اپنے گھر میں اپنی اولاد کی طرح رہائش دی اور ان کے اخراجات برداشت کیے۔
ذوالفقار رند کا کہنا ہے کہ این سی اے اور بیکن ہاؤس میں فیس اور ہاسٹل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے محکمہ ثقافت سندھ کے ذریعے انڈوومنٹ فنڈ سے معاونت حاصل کرنے کی غرض سے متعدد بار کراچی، لاڑکانہ اور شکارپور میں درخواستیں دیں، مگر سندھ حکومت نے ان کی معاونت نہیں کی۔
وہ لاہور کے شکر گزار ہیں، جہاں کے تعلیمی اداروں اور اساتذہ نے ان کے خوابوں کو تعبیر تک پہنچانے میں مدد کی۔
معذور افراد کے لیے بے سود رعایتیں
پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں خصوصی افراد، یعنی معذور افراد، کے لیے مختلف سہولیات اور رعایتوں کے دعوے کرتی نظر آتی ہیں، مگر عملی طور پر ان افراد کی مشکلات میں کمی کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں۔

ذوالفقار رند کہتے ہیں کہ حادثے سے پہلے وہ ٹرین کے ذریعے اپنے گاؤں اور کراچی سے لاہور تک سفر کرتے تھے، لیکن اب ان کے لیے ٹرین کا سفر مشکل ہوگیا ہے۔
ان کے مطابق، اسٹیشن پر ٹرین میں داخل ہونا، نشست حاصل کرنا اور واش روم استعمال کرنا دشوار ہے۔ اس کے علاوہ ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک جانے کے لیے اوورہیڈ پلوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جو کسی معاون کے بغیر معذور افراد کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ذوالفقار کا کہنا ہے کہ معذور افراد کے لیے خصوصی رعایتیں بھی عملی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق، صحافیوں، فوجی اہلکاروں اور بعض دیگر افراد کو آن لائن بکنگ کی سہولت حاصل ہے، مگر معذور افراد کو 50 فیصد رعایتی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ذاتی طور پر ریزرویشن دفتر جانا پڑتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ لاہور سے کراچی سفر کے دوران پاکستان بزنس ایکسپریس کی انتظامیہ نے ان سے پورا کرایہ وصول کیا اور بتایا کہ معذور افراد کے لیے رعایت مخصوص ٹرینوں میں دستیاب ہے۔
ذوالفقار کے مطابق، اس تجربے کے بعد انہوں نے ٹرین کے ذریعے سفر کرنا چھوڑ دیا۔
طویل جدوجہد اور سہانے خواب
معذوری اور حادثوں کے باوجود ذوالفقار رند نے تقریباً 25 سال تک مسلسل جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد کے پیچھے ان کے دو بنیادی مقاصد ہیں: اپنی شناخت بنانا اور اپنے خاندان کو غربت اور مفلسی سے نکال کر اس کا معیارِ زندگی بہتر بنانا۔
ذوالفقار اپنے پہلے مقصد میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کرچکے ہیں، لیکن اپنے خاندان کی زندگی میں بہتری لانا اب بھی ان کا خواب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماسٹرز کے آخری سیمسٹر کے امتحانات مکمل کرنے کے بعد وہ کسی آرٹس اینڈ ڈیزائن یونیورسٹی میں بطور لیکچرر کام کرنا چاہتے ہیں، تاکہ اپنے خاندان کو بہتر حالات فراہم کرسکیں، جو کئی برسوں سے ان کی کامیابی اور خوش حالی کے منتظر ہیں۔
تاہم، ان کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا یا تنخواہ کمانا نہیں۔ وہ اپنے حالات بہتر بنانے کے بعد آرٹس اینڈ ڈیزائن کا ایسا ادارہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں معذور افراد کو مصوری کا ہنر سکھایا جاسکے۔
ان کا خواب ہے کہ اس ادارے کے ذریعے معاشرے میں نظرانداز کیے جانے والے معذور افراد کو فن کی تربیت فراہم کرکے انہیں باعزت روزگار کے مواقع دیے جائیں اور وہ بھی خودمختار زندگی گزار سکیں۔