گھوٹکی (دی انڈس ٹربیون) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں سوشل میڈیا پر مشہور ٹک ٹاکر سمیرا راجپوت کیںںںں پراسرار حالات میں لاش ملی ہے۔
پولس کے مطابق آج جمعے کے روز سمیرا کی لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی، پولس نے لاش کو لوڈر رکشہ (چنگچی) کے ذریعے تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔
گھوٹکی کے صحافی شبیر عاربانی کے مطابق پولیس نے ابتدائی کارروائی میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
سمیرا راجپوت، جن کے ٹک ٹاک پر 60 ہزار سے زائد فالوورز تھے، سندھی زبان میں ویڈیوز بنا کر کافی مقبول ہو چکی تھیں۔
سمیرا کو زہر دے کر قتل کیا گیا”:“
مقتولہ کی بیٹی شبانہ نے صحافیوں سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کی والدہ طلاق کے بعد تنہا زندگی گزار رہی تھیں اور ان کے گھر علی رضا راجپوت اور عمران راجپوت اکثر آتے جاتے تھے۔
بیٹی کے مطابق، دونوں افراد ان کی والدہ پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور انکار پر مبینہ طور پر انہیں زہر کی گولیاں دے کر قتل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو نہرو شاہ قبرستان میں خفیہ طور پر دفنانے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم بروقت اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا۔
سابق شوہر کا مؤقف اور ویڈیو بیان کی بازگشت
دوسری جانب، سمیرا کے سابق شوہر علی حسن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی اور پولیس ان پر دباو ڈال رہی ہے کہ وہ طلاق کا اعتراف کریں۔ اس دعوے نے کیس میں ایک اور پہلو شامل کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سمیرا راجپوت کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ سندھی زبان میں کہتی ہیں:”اگر مون کي ڪجهھ ٿيو ته ذميوار علي رضا ھوندو، مان پنھنجو حياتيون ختم ڪرڻ ٿي چاهيان.”(ترجمہ: اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا ذمے دار علی رضا ہوگا، میں اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی ہوں۔)
حکومتی نوٹس اور تحقیقات
صوبائی وزیر برائے عورتوں کی ترقی، شاہینہ شیر علی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور قتل جیسے واقعات ناقابلِ قبول ہیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔
عوام کا ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد سمیرا راجپوت کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ #JusticeForSamira کا ہیش ٹیگ مقبول ہو رہا ہے اور عوامی دباؤ میں اضافے کے باعث حکام پر فوری کارروائی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے.