جب جغرافیہ قسمت لکھتا ہے: سندھ، افغانستان اور سیاست کا جال

نواز خان زئور
ٹِم مارشل نے ایک شاندار کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے ”Prisoners of Geography“ (جغرافیہ کے قیدی)۔
یہ کتاب روس کے خطے سے شروع ہوتی ہے اور پھر دنیا کے دیگر اہم ممالک اور خطوں کا احاطہ کرتی ہے۔
اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اقوام اور ممالک کی زندگی میں جغرافیہ کا کیا کردار ہوتا ہے، اور یہ کہ جغرافیہ کس طرح ایک قوم کے لیے بیک وقت رکاوٹ بھی بنتا ہے اور تحفظ کا ذریعہ بھی۔

مصنف نے مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ قوموں کی تقدیر میں جغرافیائی محلِ وقوع کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے۔
وہ بتاتا ہے کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑ جنوبی ایشیائی ممالک کے قدرتی محافظ ہیں، جبکہ بحیرہ عرب ان کے لیے دنیا سے رابطے کا دروازہ ہے۔

ٹم مارشل نے ایک اور کتاب ”Power of Geography“ (جغرافیہ کی طاقت) کے نام سے بھی لکھی ہے،
جس میں اس نے بتایا ہے کہ قوموں کے جغرافیائی محلِ وقوع ان کے لیے کس طرح سیاسی، معاشی اور فوجی فائدے اور نقصان پیدا کرتے ہیں۔
اس کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں جغرافیہ کا کردار نہایت وسیع، قیمتی اور کثیرالجہتی ہے۔
قوم اپنی جغرافیائی حدود کے اندر ہی اپنی تہذیب، ثقافت، تمدن، فوجی طاقت اور سیاسی کردار کی بنیاد رکھتی ہے۔

ٹم مارشل نے بھارت، پاکستان اور افغانستان کو ایک ہی باب میں شامل کیا ہے اور ان تینوں ممالک کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت پر تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔
وہ صفحہ نمبر 22 پر لکھتا ہے:

> “یہ جغرافیہ کا حکم ہے کہ پاکستان، افغانستان کے اندر پھنس کر رہے، اور بھارت بھی۔”

یہ باب پڑھتے ہوئے مجھے بار بار مولانا عبیداللہ سندھی یاد آتے ہیں۔
اس دور میں متحدہ ہندوستان میں کئی اہلِ بصیرت علما، اکابر اور سیاستدان موجود تھے، لیکن فہم و فراست اور دوراندیشی میں مولانا عبیداللہ سندھی کا کوئی ثانی نہ تھا۔

انہوں نے چالیسویں دہائی کے آغاز میں کہا تھا کہ:

> “اگر ہندوستان کے شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک اسلامی مملکت بنائی گئی، تو اس کا سب سے خطرناک اثر پڑوسی مسلمان ملک افغانستان پر پڑے گا،
اور وہ مستقبل میں عالمی طاقتوں کی جنگوں کا میدان بن جائے گا۔”

کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں قدرت مستقبل بینی کی آنکھ عطا کرتی ہے۔
ایسے لوگ وقت کے پردے چیر کر آنے والے زمانوں کو دیکھ لیتے ہیں۔
تاریخ میں ہمیشہ رہنماؤں کی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ کتنے ذہین، چالاک اور دوراندیش ہیں۔
ایسے رہنما مدبر کہلاتے ہیں۔

دنیا ونسٹن چرچل کو جدید دور کا ایک مدبر رہنما اس لیے مانتی ہے کہ اس نے ہٹلر کے فاشزم کے خطرے کو سب سے پہلے پہچان لیا تھا۔
لیکن وہ خود جنگ کے میدان میں اتنا الجھ گیا کہ اپنی سیاست کی شکست نہ دیکھ سکا۔
دوسری عالمی جنگ کا فاتح بننے والا چرچل یالٹا کانفرنس سے کامیابی کے ساتھ لوٹا، مگر برطانیہ کی انتخابی سیاست میں شکست کھا کر منظر سے غائب ہو گیا۔

اس کے برعکس مولانا سندھی کا ہاتھ وقت کی نبض پر تھا۔
انہوں نے مستقبل کی دھڑکنوں کو ٹھیک ٹھیک محسوس کیا۔
ان کی پیش گوئیاں چار دہائیوں بعد حقیقت کا روپ دھار گئیں۔

سال 1979ء میں سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔
امریکہ کے لیے یہ واقعہ کیوبا میزائل بحران سے کم نہ تھا۔
1962ء میں سوویت یونین نے اپنے اتحادی ملک کیوبا میں ایٹمی میزائل نصب کیے جن کا رخ امریکہ کی طرف تھا۔
جیسے ہی امریکی جاسوس طیاروں نے یہ خبر پہنچائی، صدر جان ایف کینیڈی نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور کیوبا کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔
دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی۔
آخرکار سفارتی دباؤ کے بعد سوویت یونین کو اپنے میزائل ہٹانے پڑے۔

اسی طرح 1979ء میں افغانستان میں سوویت افواج کی مداخلت نے ایک نئی سرد جنگ چھیڑ دی۔
یہی وہ وقت تھا جب افغان پناہ گزینوں کے پاکستان آمد کا سلسلہ شروع ہوا —
جو آج تک مختلف مرحلوں اور شکلوں میں جاری ہے۔

افغان پناہ گزین صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ ایران بھی گئے۔
”پناہ گزین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو جنگ، خانہ جنگی، ظلم یا خوف کے سبب اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیتے ہیں۔

تاریخ میں پناہ گزینی کی روایت بہت پرانی ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کو جب یروشلم میں صلیب دی گئی تو ان کے پیروکار مصر کی طرف ہجرت کر گئے۔
خود سندھ نے بھی تاریخ کے مختلف ادوار میں مظلوموں کو پناہ دی ہے۔

اسی طرح جب افغان جنگ کے دوران لوگ پناہ کے لیے سندھ آئے، تو سندھ نے ان سے منہ نہیں موڑا۔
اس نے اپنی روایتی مہمان نوازی اور انسانیت کا مظاہرہ کیا۔
مگر ہماری اسی سادگی اور انسان دوستی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
ہم پر زبردستی بیرونی لوگوں کے ریلے لا کر بسائے گئے، تاکہ آبادیاتی توازن (Demography) بگاڑا جا سکے اور ہمیں اپنی سرزمین پر اقلیت میں بدل دیا جائے۔

اقبال احمد — جو اپنے زمانے کے بڑے دانشور تھے،
فرانز فینن، نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید، طارق علی اور رچرڈ فالک جیسے لوگوں کے ہم خیال تھے —
انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

> “فلسطین کے بعد سندھ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں منظم طریقے سے غیر ملکیوں کی آبادکاری کی جا رہی ہے۔”

اقوامِ متحدہ کے مطابق تقریباً تین ملین (تیس لاکھ) افغان پناہ گزین پاکستان میں داخل ہوئے۔
ان میں سے ایک بڑی اکثریت کو سندھ کی طرف بھیجا گیا۔
اگرچہ افغان پالیسی پنجاب کے بالادست اداروں نے بنائی، مگر اس کے منفی اثرات سب سے زیادہ سندھ نے برداشت کیے۔

افغانستان کے دونوں بحرانوں کا سیاسی فائدہ وفاق اور پنجاب نے اٹھایا،
مگر نقصان سندھ نے بھگتا —
کلاشنکوف، ہیروئن، کالا دھن، بدامنی، دہشتگردی، غیر ملکی آبادکاری اور وسائل کی لوٹ مار کے طور پر۔

یہاں تک کہ پناہ گزینوں کے لیے آنے والے اقوامِ متحدہ کے فنڈز بھی سندھ کو نہیں ملے۔
پناہ گزینوں کو سنبھالا سندھ نے، مگر پیسہ کسی اور نے کھایا۔

وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
دنیا میں توازن بدلتے ہیں، مفادات بدل جاتے ہیں۔
اب مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے بعد جنوبی ایشیا بھی ایک نئے عالمی توازن کا حصہ بن چکا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے مفادات اب ایک رخ پر نہیں رہے۔
اسی لیے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
کل تک جنہیں بھائی کہا جاتا تھا، آج وہ ایک دوسرے کے مخالف بن چکے ہیں۔

عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں افغان پناہ گزینوں کو پاکستانی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا،
لیکن آج انہی افغانوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔
پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اپنے افغان پناہ گزینوں کو نکال دیا ہے —
مگر سندھ میں معاملہ اب بھی ادھورا ہے۔

سندھ کا سب سے بڑا المیہ خود اس کی حکمران جماعت (پیپلز پارٹی) ہے۔
دنیا میں جماعتیں مختلف مفادات کے تحت کام کرتی ہیں، مگر پیپلز پارٹی جیسی موقع پرست جماعت کم ہی دیکھی گئی ہے۔
یہ جماعت کبھی بھی کسی قومی یا بین الصوبائی معاملے میں سندھ کے مفاد کا دفاع نہیں کرتی۔

جب پورا ملک افغان پناہ گزینوں کو نکال رہا ہے،
تو سندھ حکومت انہیں روکنے کے لیے بہانے تراش رہی ہے۔
کراچي کی ایک افغان بستی تو خالی کرائی گئی،
لیکن وہاں کے ایک چوتھائی حصے میں اب بھی افغان آباد ہیں۔
باقی افغان بستیاں اب بھی برقرار ہیں —
کراچی سے لے کر خیرپور، شکارپور، گھوٹکی تک۔

سندھ حکومت آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔
پیپلز پارٹی ان غیر ملکیوں — افغان، پٹھان، بہاری، بنگالی، برمی اور روہنگیا — کو اپنا ووٹر سمجھتی ہے۔
حالانکہ پٹھان ووٹ پٹھانوں ہی کو دیتے ہیں،
لیکن یہ جماعت انہیں سستا ووٹ بینک سمجھ کر اپنے اتحادی بناتی ہے۔

پہلے پیپلز پارٹی سراج درانی کے ذریعے افغانوں کا مقدمہ لڑتی تھی،
اب بھی افغانوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔
البتہ سندھ کے اپنے لوگوں کے لیے اس کا رویہ سخت ہے۔

کراچی کی خالی کرائی گئی افغان بستی کو غریب بے گھر سندھ والوں کو دینے کے بجائے
ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور قبضہ مافیا کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

حکومت کے پاس ان گھروں کو گرانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،
چاہیے تو یہ کہ انہیں غریب سندھینوں کے حوالے کر دیا جائے —
چاہے معاوضے کے ساتھ ہی سہی۔

سندھ بھر میں موجود تمام افغان بستیاں خالی کرائی جائیں
اور ان میں آباد تمام پناہ گزینوں کو واپس افغانستان بھیجا جائے۔
یہ ایک تاریخی موقع ہے،
اور سندھ کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے —
اس سے پہلے کہ اوپر والے طبقے پھر بدل جائیں اور پالیسی میں نرمی آ جائے۔

(محترم نواز خان زنئور سندھی قومپرست رہنما کے ساتھ دانشور اور ادیب بھی ہیں. ان کا یہ کالم معروف سندھی روزنامے کاوش کی 18 اکتوبر 2025 کی اشاعت میں شایع ہوا تھے، دی انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے یہ کالم سندھی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)

اپنا تبصرہ لکھیں