ڈاکٹر احمد علی میمن
آج دنیا بھر میں “یوم تعلیم” منایا جا رہا ہے. یہ دن ہمیں ہر سال یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کا سنجیدہ اور دیانت دارانہ جائزہ لیں. مگر سندھ جیسے صوبے میں یہ دن محض تقاریب اور بیانات تک محدود ہو چکا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ایک گہرے تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں.
اگر سندھ میں تعلیم کی صورتحال کو ضلع وار اعداد و شمار، صنفی عدم توازن، سہولیات کے فقدان اور نصاب کی نوعیت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحران محض تعلیمی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت سماجی ناکامی بن کر سامنے آتا ہے۔
سندھ میں تعلیمی عدم مساوات واضح طور پر جغرافیائی بنیادوں پر تقسیم ہے. کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں شرحِ خواندگی نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے، مگر تھرپارکر، کشمور، جیکب آباد، قمبر شہدادکوٹ، بدین اور دادو جیسے اضلاع میں صورتحال نہایت تشویشناک ہے.
ان اضلاع میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں اور کئی علاقوں میں ہر تین میں سے ایک بچہ بنیادی تعلیم سے محروم ہے. یہ فرق کسی قدرتی مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور ریاستی عدم توجہی کی پیداوار ہے.
صنفی عدم توازن سندھ کے تعلیمی بحران کا سب سے سنگین اور مسلسل نظرانداز کیا جانے والا پہلو ہے. دیہی اضلاع میں لڑکیوں کی شرحِ داخلہ اور خواندگی لڑکوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے. غربت، سماجی دباؤ، کم عمری کی شادی، خواتین اساتذہ کی کمی اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا فقدان بچیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں. کئی علاقوں میں بچیوں کے اسکول تو موجود ہیں، مگر نہ بیت الخلاء ہیں، نہ چار دیواری، اور نہ محفوظ تعلیمی ماحول. ایسے حالات میں بچیوں کی تعلیم کے دعوے محض رسمی بیانات بن کر رہ جاتے ہیں.
تعلیمی سہولیات یا فیسلٹی مینجمنٹ کی صورتحال بھی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے. سندھ کے ہزاروں سرکاری اسکول پینے کے صاف پانی، بجلی، فرنیچر اور تدریسی وسائل سے محروم ہیں. بعض اضلاع میں اسکول عمارت موجود ہیں مگر اساتذہ نہیں، جبکہ کہیں اساتذہ موجود ہیں مگر طلبہ نہ ہونے کے برابر، یہ تضاد واضح طور پر انتظامی بدحالی اور ناقص نگرانی کا ثبوت ہے.
تاہم سندھ کے تعلیمی بحران کا سب سے سنگین مگر کم زیرِ بحث پہلو نصاب اور نظام تعلیم ہے. صوبے میں پڑھایا جانے والا نصاب بڑی حد تک فرسودہ، غیر متعلق اور رٹّا سسٹم پر مبنی ہے۔ یہ نصاب نہ طلبہ میں تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے، نہ تخلیقی صلاحیت، اور نہ ہی انہیں سماجی، معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل لٹریسی، میڈیا فہم، شہری شعور اور صنفی مساوات جیسے اہم موضوعات یا تو نصاب میں شامل ہی نہیں یا محض علامتی طور پر موجود ہیں۔
دیہی سندھ کے طلبہ کے لیے نصاب کی غیر متعلق نوعیت ایک بڑا مسئلہ ہے. ایک ایسا طالب علم جو زرعی بحران، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور روزگار کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہا ہو، اسے ایسا نصاب پڑھایا جا رہا ہے جو اس کی زندگی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں رکھتا. نتیجتاً تعلیم بوجھ بن جاتی ہے اور اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
اساتذہ کی تربیت اور نصاب کے درمیان بھی واضح خلا موجود ہے. اکثر اساتذہ جدید تدریسی تقاضوں اور نصاب کے مقاصد سے پوری طرح آگاہ نہیں. تربیتی پروگرام رسمی کارروائی تک محدود ہیں اور ان کا عملی اثر کلاس روم میں نظر نہیں آتا. جب استاد خود فکری طور پر بااختیار نہ ہو تو وہ طلبہ میں سوال کرنے اور سوچنے کی صلاحیت کیسے پیدا کر سکتا ہے؟
تعلیم کا عالمی دن، جو UNESCO کے تحت منایا جاتا ہے، اس بات پر زور دیتا ہے کہ معیاری اور مساوی تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے. مگر سندھ میں یہ حق ضلع، جنس اور طبقے کی بنیاد پر تقسیم ہو چکا ہے. Pakistan Bureau of Statistics کے اعداد و شمار بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ تعلیمی محرومی کا براہِ راست تعلق غربت، صنفی عدم مساوات اور ادارہ جاتی کمزوری سے ہے۔
حکومتِ سندھ کی تعلیمی پالیسیاں دستاویزات میں تو متاثر کن نظر آتی ہیں، مگر عملی سطح پر ان کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے. بجٹ میں اضافہ تو کیا جاتا ہے، مگر نصاب کی اصلاح، اساتذہ کی مؤثر تربیت، سہولیات کی فراہمی اور شفاف نگرانی کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں.تعلیم کو سیاسی تشہیر کا ذریعہ تو بنا لیا گیا ہے، مگر اسے حقیقی اصلاح کا ایجنڈا نہیں بنایا گیا.
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ میں تعلیم کو محض عمارتوں اور بجٹ کا مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ نصاب، تربیت، سہولیات اور صنفی مساوات کو ایک مربوط پالیسی فریم ورک کے تحت دیکھا جائے. نصاب میں لچک، مقامی مسائل کی شمولیت اور جدید فکری تقاضوں سے ہم آہنگی کے بغیر تعلیمی بحران حل نہیں ہو سکتا۔
تعلیم کا عالمی دن ہمیں یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیتا ہے کہ آیا ہم تعلیم کو واقعی تبدیلی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا محض ایک رسمی نعرہ. جب تک سندھ کے پسماندہ اضلاع کے بچے، خصوصاً بچیاں، معیاری اور بامقصد تعلیم سے محروم رہیں گی، تب تک ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے رہیں گے. ایک تعلیم یافتہ سندھ ہی ایک منصفانہ، مضبوط اور باوقار پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے.