وفاق کو دعوت: کراچی سے دشمنی

بصیر نوید
مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم سے بڑھ کر مہاجر دشمن اور کوئی نہیں ہوسکتا جس نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ شخص وفاقی وزیر بھی ہے۔ غالباً کسی وفاقی پنجابی بیوروکریٹ یا وردی پوش نے انہیں مشورہ دیا ہوگا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کرو، بڑے دانشور کہلاؤ گے اور تمہارا سیاسی قد بڑھے گا۔

کیونکہ ایم کیو ایم اور اس کے عاقبت نااندیش رہنماؤں کو اس تجویز کے نقصانات کا ادراک ہی نہیں۔ وہ جن “مہاجروں” کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، درحقیقت یہ تجویز انہی کے لیے دائمی نقصان کا باعث بنے گی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ لسانی نفرت کی سیاست کرنے والوں کو تھوڑا بہت پڑھا لکھا بھی ہونا چاہیے۔

ایم کیو ایم یہ سمجھتی ہے کہ اگر کراچی وفاق کے حوالے ہو گیا تو ان کے لیے بے شمار ملازمتیں کھل جائیں گی، کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ انہیں ملے گا اور مہاجر مالا مال ہو جائیں گے۔ ان کے خیال میں اسلام آباد جیسی ترقی اور سہولیات کراچی میں آ جائیں گی اور وفاق سے ملنے والے وسائل میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔
چلیے، اب ذرا حقیقت کی طرف آتے ہیں۔

اگر آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیتے ہیں تو ملازمتوں اور وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے کراچی کو صرف چند فیصد ہی ملے گا، کیونکہ وفاق اپنی آمدنی چاروں اکائیوں میں تقسیم کرتا ہے۔

اس وقت وفاق سندھ کو 19 فیصد دیتا ہے (حالانکہ عملی طور پر کبھی پورے 19 فیصد نہیں دیے گئے)۔ یہ کوٹہ سندھ کے پاس ہی رہے گا۔ اگر کراچی وفاق کے حوالے ہوا تو زیادہ سے زیادہ سندھ کے کوٹے میں سے دو فیصد کم کیا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

فرض کر لیجیے کہ “وفاقی کراچی” کو وفاق سے 10 فیصد کوٹہ مل جاتا ہے۔ اب چونکہ کراچی وفاق کا حصہ ہوگا، اس لیے اس 10 فیصد کوٹہ کو آبادی کی بنیاد پر چاروں صوبوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد “کشمیر ہماری شہ رگ ہے” کے اصول کے تحت ایک حصہ کشمیر کے لیے رکھا جائے گا، اور پھر فوج کا حصہ ہوگا—کیونکہ وہ تو ہمارے سب کچھ ہیں۔ ظاہر ہے ان کے حصے کو ہم کسی صورت “بھتہ” نہیں کہہ سکتے، ورنہ بلاسفیمی کے زمرے میں آ جائیں گے۔

آج کی صورتحال میں سندھ کے اندر آپ کو سرکاری طور پر 40 فیصد کوٹہ ملتا ہے، جبکہ غیر سرکاری طور پر اس سے کہیں زیادہ حاصل کیا جاتا ہے۔ وفاقی نظام میں جانے کے بعد آپ اس 40 فیصد سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

اب ذرا سوچیے کہ وفاق کے اس مفروضہ 10 فیصد کوٹہ میں سے “مہاجروں” کو آخر کیا ملے گا؟ یہ تجویز دراصل خالصتاً ہجرت کر کے آنے والی آبادی کی اولادوں سے دشمنی کے مترادف ہے۔

اسی طرح کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی براہِ راست کراچی کو نہیں بلکہ وفاق کو جائے گی، جو بعد ازاں چاروں صوبوں میں تقسیم ہو گی۔ یعنی کراچی خود اپنی کمائی کا مالک نہیں رہے گا۔

وفاق میں شامل ہونے کی صورت میں اردو بولنے والوں کو شاید دو فیصد کوٹہ بھی نصیب نہ ہو۔ ویسے بھی کراچی کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مختلف صوبوں سے روزگار کی تلاش میں لوگ کراچی کا رخ کر رہے ہیں، اور ہر طبقے نے ایم کیو ایم کے “حسنِ سلوک” کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں اردو بولنے والوں کی آبادی اب صرف 28 سے 30 فیصد کے درمیان رہ گئی ہے۔

میں بات یہیں ختم کرتا ہوں۔ اگر میرے اعداد و شمار غلط ہوں تو ضرور تصحیح کیجیے، مگر ٹھوس اور مستند اعداد و شمار کے ساتھ۔ اس تجویز کے خلاف بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، اور میں چاہوں گا کہ اس موضوع پر مزید سنجیدہ گفتگو جاری رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں