ثمامہ بن خالد
مجلس شوری نے عاصمہ جہانگیر پر توہین مذہب کا فتوی دیا وہ باعزت بری ہوئیں۔
سلامت مسیح- چودہ سالہ بچہ جس پر توہین کا الزام لگا اسکا کیس عاصمہ جہانگیر نے لیا اور 1995 میں جج صاحب نے باعزت بری کیا کیونکہ کیس میں کچھ تھا ہی نہیں۔ جج عارف اقبال بھٹی کو 1997 میں قتل کر دیا گیا جبکہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی گاڑی اور ڈرائیور کو نقصان پہنچایا گیا۔یہ تھیں عاصمہ جہانگیر۔
پچھلے دنوں قیصر احمد راجہ صاحب ایک پوڈکاسٹ میں تھے اور میزبان یہ تاثر دینے کی کوشش میں تھا کہ آپ نے تو عاصمہ جہانگیر کی لیگسی ختم کردی.
دھیرج رکھو پیارے! عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد آپکی عمروں سے بھی زیادہ ہے۔ وہ 1983 میں پہلی مرتبہ جیل گئیں جب آپ جیسوں کے نظریاتی جنم کی تیاریاں عروج پر تھیں.
آفاق احمد ایم کیو ایم ٹوٹنے کے بعد الطاف حسین کے ڈر سے کراچی سے بھاگ کر داتا دربار کے اردگرد کسی علاقے میں چھپے تھے حامد میر بتاتے ہیں مجھے ایک فون موصول ہوا کہ عاصمہ جہانگیر کا فون نمبر چاہئیے تو میں نے سوال کیا آپ کون؟ کہنے لگے میں ایک مظلوم ہوں! عاصمہ جہانگیر نے تب بھی الطاف حسین جو اس وقت نہایت خطرناک تھے انکی دشمنی مول لیتے ہوئے آفاق احمد کا کیس لیا۔کتنے ہی سیاسی قیدی آ کر انکے چیمبر میں پناہ لیتے اور ہر ایک کا سہارا بننے والی عاصمہ جہانگیر ان کا آخری حد تک تحفظ کرتیں۔
بھٹہ مزدوروں کے لیے نہ صرف جنگ لڑی بلکہ “Children with lesser God” کتاب بھی لکھی جس میں انکا کسی بھی مظلوم کے لیے
درد واضح ہے۔2013 میں پنجاب کے نگران وزیر اعلی کے طور پر ن لیگ اور پی پی دونوں متفق تھے مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے بے نظیر بھی انہیں عہدہ آفر کرچکی تھیں مگر یہ واضع تھا کہ وہ کسی بھی عہدے پر اپنا نظریہ اور جدوجہد کمپرومائز نہیں ہونے دیں گی.
جب انہوں نے سپریم کوٹ بار کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو انصار عباسی نے جنگ اخبار میں انکے خلاف ایک لمبی چوڑی کمپین چلائی اور انہیں احمدی کہہ کر انکے خلاف شدت پسندی کو ہوا دی مگر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب وہ اخبار زیر عتاب آیا تو اسی عاصمہ جہانگیر نے انکا کیس سپریم کورٹ میں لڑا-یہ عاصمہ جہانگیر کا ہی خاصہ تھا جو اپنے دشمن کے بُرے وقت میں سب سے پہلے انکے ساتھ کھڑی ہوتیں.
آج عاصمہ جہانگیر کی سالگرہ ہے۔ ایسے لوگ گھٹن میں آخری سانس ہوتے ہیں۔خدا کرے یہ سانسیں بحال رہیں۔