تیل، گیس اور ڈیٹا کی جنگ: خلیج میں بھڑکتی آگ اور عالمی نظام کا بحران

ڈاکٹر احمد علی میمن
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ ایک ایسے ہمہ جہتی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے دنیا کے توانائی اور ڈیجیٹل نظام دونوں کو بیک وقت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ صرف سرحدوں یا فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ تیل کے ذخائر، گیس کے میدان، ریفائنریاں، ایل این جی ٹرمینلز اور سمندر کے نیچے بچھے انٹرنیٹ کیبلز بھی اس کے دائرۂ کار میں آ چکے ہیں۔

یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران کے سب سے بڑے گیس ذخیرے ساؤتھ پارس فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا، جو دنیا کا سب سے بڑا گیس میدان ہے اور ایران کی تقریباً ستر فیصد گیس پیداوار اسی سے وابستہ ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں نہ صرف ایران کی توانائی سپلائی متاثر ہوئی بلکہ پورے خطے میں ایک ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ایران نے اس کے جواب میں خلیجی خطے کے اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں قطر کا راس لفان ایل این جی حب سرفہرست ہے، جو عالمی سطح پر تقریباً بیس فیصد مائع قدرتی گیس فراہم کرتا ہے۔ اس مرکز کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کی مرمت پر بیس سے چھبیس ارب ڈالر تک لاگت آئے گی اور مکمل بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات یورپ کی توانائی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

اسی دوران سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری، کویت کی مینا الاحمدی ریفائنری اور عراق کے رمائلہ آئل فیلڈ جیسے اہم مراکز بھی حملوں کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر ایک سو دس ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس پورے منظرنامے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ جنگ اب صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ توانائی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کا کھیل بن چکی ہے۔

تاہم اس بحران کا ایک اور پہلو ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ دنیا کا تقریباً پچانوے سے ننانوے فیصد انٹرنیٹ ڈیٹا سمندر کے نیچے بچھے فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً سترہ لاکھ کلومیٹر ہے۔ یہ کیبلز بحیرہ احمر اور خلیج فارس کے انہی راستوں سے گزرتی ہیں جو اس وقت جنگی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ماضی میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں جب بحیرہ احمر میں کیبلز کے متاثر ہونے سے ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان انٹرنیٹ ٹریفک کا ایک چوتھائی حصہ متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہو گئی اور ڈیجیٹل نظام میں خلل پیدا ہوا۔

اگر موجودہ کشیدگی کے دوران ان کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف انٹرنیٹ کی سست روی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بینکنگ نظام، اسٹاک ایکسچینجز، کلاؤڈ سروسز اور عالمی مواصلاتی ڈھانچہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہوگی جس میں نہ دھماکے ہوں گے اور نہ ہی فوری طور پر تباہی نظر آئے گی، مگر اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

اسی تناظر میں خلیجی قیادت کے بیانات بھی اس بحران کی سنگینی کو واضح کر رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید اور قطر کی قیادت کی جانب سے ایران کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ خلیج میں صبر کی حد لامحدود نہیں ہے۔ یہ بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں کسی بھی لمحے صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی اس بحران کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے عسکری اور مالی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے وائٹ ہاؤس سے ایران کے خلاف جنگ کے لیے دو سو ارب ڈالر سے زائد کے اضافی فنڈز کی منظوری طلب کی ہے، جبکہ اسی دوران امریکہ نے خلیجی ممالک کے لیے سولہ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے کی منظوری دی ہے، جس میں ڈرونز، میزائل سسٹمز اور ریڈارز کی فراہمی شامل ہے۔

یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اس تنازع کو طویل المدتی جنگ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار بھی اہم ہے، جہاں بنیامین نیتن یاہو اپنی حکمت عملی کے اگلے مرحلے کی تیاری میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کا “پلان بی” توانائی کے راستوں اور علاقائی طاقت کے توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہو سکتا ہے، جو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے دوہرے عالمی بحران کو جنم دے رہے ہیں جہاں ایک طرف توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور دوسری طرف ڈیجیٹل رابطے کا نظام خطرے میں ہے۔ یورپ، جو پہلے ہی روسی گیس کے بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، اب قطر کی ایل این جی سپلائی میں ممکنہ خلل کے باعث ایک نئے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے، جبکہ چین جیسے بڑے درآمد کنندگان کے لیے بھی توانائی کی سلامتی ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔

ایک طرف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ معیشت پر دباؤ ڈالے گا، تو دوسری طرف اگر انٹرنیٹ کیبلز متاثر ہوئیں تو ڈیجیٹل معیشت اور مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

اس پس منظر میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں خلیجی تنازع میں کوئی کردار ادا کرے گا یا خود کو اس سے دور رکھ پائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ خلیج میں جاری یہ کشیدگی ہمیں ایک نئی دنیا کی طرف لے جا رہی ہے جہاں جنگ صرف زمین پر نہیں بلکہ سمندر کے نیچے اور معیشت کے اندر بھی لڑی جا رہی ہے۔

اگر تیل عالمی معیشت کی شہ رگ ہے تو سمندر کے نیچے بچھے کیبلز اس کا اعصابی نظام ہیں — اور آج دونوں ہی ایک ہی میدانِ جنگ سے گزر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں