رزاق کھٹی
ملک کے طاقتور ترین وزیر داخلہ محسن نقوی کی “نظام کولپس ہوچکا” والی تقریر کے بعد جہاں وفاقی حکومت، اور سب سے بڑی بینیفشری پیپلزپارٹی، نقوی کے پیچھے موجود بڑی طاقت کو کھل کر کوئی پیغام نہیں دے سکیں، لیکن اس کے باوجود ن لیگ میں اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا شکار رہنے والے رانا ثنااللہ اور خواجہ آصف نے کھل کر بات کی ہے۔ وزیر دفاع نے تو یہ تک کہہ دیا کہ نقوی “کئی معاملات میں وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں” الفاظ میں لچک ہوگی، مفہوم صاف تھا کہ وہ حکومت کے اندر رہ کر بھی حکومت سے ماورا ہیں۔ جبکہ چند ن لیگیوں نے ملائم سے الفاظ استعمال کیے اور کچھ نے نئے صوبوں کی حمایت کی، لیکن نظام کولپس ہونے والی بات کو مسترد کیا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ کی سیکنڈ لیئر قیادت نے بھی کھل کر مخالفت کی۔
اس دوران ایک اور باریک واردات ڈالی گئی۔ کچھ اخبارات نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے “ریفرینڈم” کی بات شروع کردی ہے، تاکہ ردعمل کو جانچا جاسکے۔ پاکستان میں دو بار ہونے والی اس بدنام ترین پریکٹس کے ذریعے دو آمروں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی کامیاب کوشش کی، کامیاب اس تناظر میں کہ عوام نے مینڈیٹ دے دیا، ” اب میں تاحیات صدر ہوں”ایسے ریفرینڈمز جہاں پولنگ اسٹیشنز پر ووٹر کم لیکن ووٹوں کی شرح ننانوے فیصد سے بھی زیادہ تھی۔ اب اسے تیسری بار آزمانے کی تجویز لائی جا رہی ہے۔
نقوی کی تقریر، جس میں سب سے زیادہ توہین حکمران جماعت کی، کی گئی، ن لیگ نے بھی “مٹی پاؤ آگے بڑھو” کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے فی الحال اپنی گردن مٹی میں ڈال دی ہے۔
محسن نقوی کی اس متنازع تقریر میں، جہاں ایک وزیر داخلہ نے اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف چارج شیٹ فریم کی، وہیں یہ جملہ بھی تھا کہ “آخر فیلڈ مارشل کب تک آپ کو پلیٹ میں رکھ چیزیں دیتے رہیں گے” پیغام واضح تھا کہ آپ کچھ نہیں کر رہے!
وہ سسٹم، جس کے کولپس ہونے کا اعلان کیا گیا، پارلیمنٹ کے دونوں ایوان، کسی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یا اسپیکر نے اس پر ایک لفظ تک نہ کہا۔ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔ جواب دیں یا خاموش رہیں۔کوئی فیصلہ ہی نہ کرسکے۔
محسن نقوی، جن کی طاقت اور اہلیت دو الگ الگ چیزیں ہیں، اگر ان کی طاقت کا اندازہ لگایا جائے تو واضح معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی سی بات پر فون اٹھاکر ٹویٹ کرنے والے سارے اکابرین ان کی متنازع ترین تقریر پر خاموش تھے۔
ہمارے معاشروں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی بہت زیادہ طاقتور ہو تو اس کے “بلنڈر” بھی کمزوروں کو فلسفہ لگنے لگتے ہیں۔کوئی مولوی ہو یا مرشد، اگر فہم سے ماورا بات کردے تو سامنے بیٹھا معتقد “سبحان اللہ سبحان اللہ” کہتے اس کی توثیق کرتا نظر آتا ہے۔
مرشد نقوی کے “ارشادات” پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا، سمجھداروں نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی تو باقیوں نے بھی سمجھ لیا کہ ان کی خاموشی رضامندی ہے۔
یہاں سیاسی تاریخ کی بات نہیں کرتے، لیکن اتنا اعتراف تو کرنا چاہیے کہ اس وقت جو بھی ہے جیسا بھی ہے، یہ نظام ایک ایسے آئین پر کھڑا ہے، جس میں” وہ” کہتے بھی ہیں کہ تمام ادارے اس کے پابند ہیں۔ اگر وہ پابند ہیں تو نظام کیسے کولپس ہوگیا؟
ماضی میں آمر ہوں یا ان کے سائے میں پلنے والے سیاستدان، انوکھے لاڈلوں کو کھیلنے کے لیے آئین ہی ملتا رہا،اس کے بغیر ان کی آمریت کو بھی جواز نہ مل سکتا تھا، لیکن اس سب کے باوجود جب بھی اس محتاج آئین کو موقع ملا ، وہ خود کو بچاتا رہا ہے۔
اب جب محسن نقوی کی تجویز کے ساتھ ساتھ اخبارات نے ریفرینڈم کی بات کرنا شروع کردی ہے تو یہ تجویز “زندہ شریف پیرزادوں ” ہی کی طرف سے آئی ہوگی۔ لیکن موجودہ آئین میں واضح لکھا ہے کہ جب تک کوئی صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے صوبے کی حدود تبدیل کرنے کی قرارداد پاس نہ کرے، اس کے بعد یہ قرارداد قومی اسمبلی، پھر سینیٹ پاس نہ کرے، تب تک حدود کی تبدیلی ممکن نہیں۔
ریفرینڈم ایک کرایا جائے یا سو، موجودہ فریم ورک میں نتیجہ وہی ہوگا جس کا ابھی ذکر کیا گیا۔ یعنی آئینی طریقہ ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ریفرینڈم اکیلے ہی کراسکتی ہے؟ یہ بھی آسان نہیں۔ آئین کے مطابق وزیراعظم یہ فیصلہ کریں گے کہ قومی اہمیت کے کسی معاملے پر ریفرینڈم کرانا ضروری ہے، جس میں صرف “ہاں” یا “ناں” پوچھنی ہو۔ وزیراعظم، ایسا نہیں کہ کابینہ سے منظوری لے کر اعلان کردیں،وہ اپنا فیصلہ پارلیمنٹ کو بھیجیں گے،اور مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری لی جائے گی۔
ریفرینڈم کیسے ہوگا؟ ووٹنگ ٹرن آؤٹ کیا ہوگا؟ اور دیگر کون سے پہلو ایڈریس کرنا ضروری ہیں۔ مشترکہ اجلاس ہی اس کی منظوری دے گا۔ جس کے بعد کہیں جاکر ریفرینڈم کا انعقاد ممکن ہوگا۔
اب بات،تیس جولائی کی، اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کے اسٹیج پر محسن نقوی، انہی تاجروں سے مخاطب تھے جو ملک بھر سے سمٹ میں مدعو تھے۔ کہہ رہے تھے کہ جو سسٹم کولپس ہوچکا ہے، آپ لوگ ہمیشہ اسی کو فنڈ کرتے رہے ہیں ۔ الیکشن میں سیاسی جماعتوں کو فنڈ کرکے وہی جماعتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں، اب یہ فنڈنگ بند کریں، اگر کرنی ہے تو ایسوں کو کریں جو نظام بہتر بناسکیں۔
یعنی منی لانڈر اور کرپٹ تاجروں کا ٹولہ!
لیکن یہ الزام ہم نہیں خود وزیر داخلہ نے لگایا تھا ۔ ٹھیک ساڑھے تین ماہ پہلے۔
یہ تاریخ ہے 14 اپریل کی، جہاں فیڈریشن آف کامرس کی ایک تقریب سے کراچی میں محسن نقوی مخاطب تھے۔ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین چار برسوں کے دوران پاکستان سے ایک سو ارب ڈالر غیر قانونی طریقے سے باہر چلے گئے۔ بجٹ سر پر تھا، انہوں نے وزیر خزانہ کی “مدد” کے لیے تاجروں سے کہا کہ اگر وہ اپنی بیرون ملک رقم کا صرف تیس فیصد بھی واپس لے آئیں تو یہ دس ارب ڈالر سے زیادہ بن جائے گا اور پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔ اس تقریر میں ہلکی سی دھمکی بھی دی کہ اگر ایک دو کو اٹھا لیا جائے تو بہت سارے نام سامنے آجائیں گے، کس کس کا پیسہ باہر گیا ہے۔
اس تقریر میں یہ واضح تاثر دیا گیا کہ تاجروں کی بڑی اکثریت منی لانڈر یا کرپٹ ہے۔ تو یوں سمجھیں کہ ایف آئی اے سے لے کر باقی ادارے ان کے ماتحت ہیں، پھر بھی کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انہوں نے تاجروں کو درخواست کی کہ تیس فیصد واپس لے آؤ، اس سے واضح تھا کہ یہ صاحب ، خود اپنے ہی ادارے پر، بلکہ حکومت پر بھی، ایک چارج شیٹ فریم کر رہے تھے کہ موجودہ حکومت کے دونوں ادوار میں یہ رقم باہر چلی گئی۔ چند دن مشکل سے اس پر میڈیا میں بات ہوئی،حکومت کے کسی وزیر نے کوئی ردعمل نہیں دیا، انہوں نے خود سے یہ اخذ کرلیا کہ زرداری کا بڑا برخوردار محسن، اپنے محسن کے بارے میں بات کر رہا ہے، بعد میں رانا ثناء اللہ کے بیانات نے اس کی تصدیق بھی کی۔
30 جولائی کو اسلام آباد میں وزیر داخلہ جب براہ راست ٹی وی پر دنیا کو بتا رہا تھا کہ ہمارا سسٹم کولپس ہوچکا ہے، ہماری سیاسی جماعتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ وہ جن کو کچھ ماہ پہلے منی لانڈر اور کرپٹ کہہ رہا تھا، انہیں سے کہہ رہا تھا کہ آپ اچھے لوگوں کو پیسے دیں تو آپ خود نئے صوبوں کے اہم عہدوں پر جاسکتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ، جو اس سسٹم کے سب سے بڑے بینفشریز ہوں، انہیں ایک نئے سسٹم میں مزید کھدائی کی دعوت دی جائے۔
عوام یہ بھی جانتی ہے کہ اس وقت جو سسٹم چل رہا ہے، وہ کون چلا رہا ہے، کون سے حاضر سروس افسران کن سولین دفاتر میں بیٹھے ہیں۔ اس کے باوجود اگر سسٹم نہیں چل رہا تو مطلب یہ ہے کہ خرابی سسٹم میں نہیں، اس بات میں ہے کہ چلائے گا کون؟ اور شہباز شریف کو چھوڑ کر باقی سارے وزرائے اعظم یہی رونا روتے رہے ہیں۔چاچو کی باری کب آئے گی؟ انتظار رہے گا ۔
اب جب ریفرینڈم کی تجویز سامنے لائی جا رہی ہے، جو پہلے ہی ایک بدنام ترین پریکٹس ہے ، تو اگر وہ کرایا بھی جائے تب بھی دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوگا۔ اور پیپلزپارٹی کے بغیر یہ ممکن نہیں، اور پیپلز پارٹی خود کشی نہیں کرے گی ۔
نئے صوبوں والا معاملہ، ٹینک دکھا کر بندوق لینے والا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کو اس سال صوبوں نے خود تیل لینے بھیج دیا اور اپنی عزت بچا لی۔این ایف سی کے حوالے سے بھی سمجھوتا کرلیا۔”وفاق” کو فیملی پلاننگ سے لے کر معدنیات اور پانی، سب کچھ چاہیے، لیکن اس میں آڑے جو چیز آ رہی ہے وہ آئین اور کمزور سیاسی جماعتیں ہیں۔ صوبوں کی تقسیم فی الحال موجودہ فریم ورک میں ممکن نظر نہیں آتی، جب تک صوبائی اسمبلیاں خود اپنی حدود میں تبدیلی کی قراردادیں پاس نہ کردیں۔ یہاں سوچنے کی یہ بات بھی ہے کہ اس اشو کو اٹھانے کے بعد باقی کتنے اشوز کو دبا دیا گیا؟
پاکستان میں سیاسی جماعتیں بہت کمزور ہوچکی ہیں۔ کچھ نے اپنی مرضی سے سودے بازی کرکے خود کو کمزور کیا، پی ٹی آئی کو دیوار سے لگا دیا گیا۔ سیاست کو فی الحال عوام کے بجائے قومی سلامتی سے جوڑ دیا گیا ہے، جس وجہ سے لوگ کھل کر بات نہیں کر پا رہے تھے ، یہ سلسلہ گذشتہ سال مئی سے شروع ہوا، جب مودی نے پاکستان پر حملہ کیا۔ لیکن اب محسن نقوی نے مہربانی کرکے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ اس کولپس نظام پر کھل کر بات کریں، جس کا وہ خود سب سے طاقتور حصہ ہیں۔ انہوں نے صرف اپنا ہی منہ نہیں کھولا، سب کو موقع دے دیا ہے کہ “کھل کر بولو” اگر اعتبار نہ آئے تو پندرہ منٹ سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم کا وزٹ کرلیں، لگ پتہ جائے گا