مکہ دفاعی معاہدہ: مسلم اتحاد یا خطے کی نئی جیو پولیٹیکل حکمت عملی؟

رزاق کٹھی
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوگیا ہے۔ یہ معاہدہ مسلمانوں کے سب سے مقدس شہر مکہ المکرمہ میں ہوا، جس میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کے آرمی چیف بھی اس اہم تقریب میں موجود تھے۔

اس معاہدے کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔ پہلی یہ کہ ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا عرب اور مسلم ملک ہے، جسے معاشی طاقت (Economic Capital) کہا جا سکتا ہے۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ اتحاد کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، جبکہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اسی وجہ سے اس معاہدے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران پر امریکہ کی جنگ جاری ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند دنوں سے حملے رکے ہوئے ہیں، لیکن اس کی وجہ بعض حلقوں کے مطابق اسلام آباد ایم او یو کی پاسداری نہیں بلکہ امریکہ کے دفاعی میزائلوں کے ذخائر کا خطرناک حد تک کم ہو جانا ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی اس جنگ سے امریکہ کوئی نمایاں نتائج حاصل نہیں کرسکا، البتہ اس جنگ میں اس کے غرور کو ضرور دھچکا پہنچا۔ امریکہ، جو خود کو عالمی طاقت سمجھتا تھا، اسے ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرنا پڑے۔ جب اسلام آباد ایم او یو کے نکات سامنے آئے تو بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کو اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اس سے انکار نہیں کہ ایران نے جنگ اور سفارت کاری، دونوں میں مہارت کا مظاہرہ کیا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس لیے بھی ناکام رہیں کہ فیصلہ سازی میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کا جنون غالب تھا۔

تین مسلم ممالک، جو سنی اکثریتی ریاستیں ہیں، کے درمیان اس معاہدے پر گزشتہ ایک سال سے بات چیت جاری تھی، لیکن اسے جلد حتمی شکل اس لیے دی گئی کہ اس وقت آبنائے ہرمز بند ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی گذرگاہ سے گزرنے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔

اس معاہدے پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ دہائیوں سے امریکی دفاع پر انحصار کرنے والے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو حالیہ جنگ کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ ان کے تیل پر قائم پیٹرو ڈالر نظام سے فائدہ اٹھانے والا امریکہ ان کا مؤثر دفاع نہیں کر سکا۔ اسی لیے اس معاہدے کو بعض حلقے سعودی عرب کی جانب سے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی قرار دے رہے ہیں، اور اس صورتحال تک پہنچنے میں امریکہ کے رویے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

2019 میں جب ایران نے سعودی عرب پر ڈرون حملے کیے تو امریکہ نے نسبتاً نرم ردعمل دیا۔ 2025 میں جب اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا تو امریکہ کا ردعمل بھی سرد رہا۔ امریکہ، نکسن دور کے معاہدوں کے تحت، اس بات کا پابند سمجھا جاتا ہے کہ اگر عرب ممالک اپنا تیل ڈالر میں فروخت کریں گے تو وہ ان کے دفاع کی ضمانت دے گا۔ امریکہ نے خلیجی ممالک میں فوجی اڈے قائم کیے، پیٹرو ڈالر نظام سے اپنی معیشت کو مضبوط بنایا، اور اس کی بدولت وہ دنیا کی جدید ترین فوج رکھنے میں کامیاب ہوا، لیکن ناقدین کے مطابق وہ ان ممالک کا مؤثر دفاع نہ کر سکا جن کے تیل نے اس کی معیشت کو تقویت دی۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھی ایک دفاعی معاہدہ ہوا تھا، جس میں ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیے جانے کی شق شامل تھی۔ اب مکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگرچہ ابھی اس معاہدے کی تمام تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ایک پر حملہ سب پر حملہ کے اصول پر اتفاق ہو چکا ہے۔

اسرائیل طویل عرصے سے اس خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ سعودی عرب اسے تسلیم کرے، کیونکہ اس کے بعد پاکستان اور دیگر مسلم ممالک بھی ممکنہ طور پر اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔ اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ ایران سے محسوس ہوتا ہے، جبکہ عرب ممالک ایران اور اسرائیل دونوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل ایک غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت ہے، جبکہ حالیہ جنگ کے بعد ایران کی عسکری صلاحیتوں کا اندازہ بھی دنیا کو ہو چکا ہے۔

امریکہ، جس کے متعدد صدور ایران کے ساتھ براہ راست جنگ سے گریز کرتے رہے، بالآخر نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ کے دور میں اس محاذ پر آیا۔ اس کے بعد عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مشرق وسطیٰ کی نئی صف بندی (Reshaping) شروع ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی یہ احساس بھی بڑھا کہ اسرائیل ایک ایسا بے لگام اتحادی بن چکا ہے جسے امریکہ بھی مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔ اسی لیے دنیا بھر میں اسرائیل کی مخالفت اور ایران کے لیے ہمدردی میں اضافہ ہوا۔

تاہم ایک پہلو ایسا بھی ہے جو دیگر مسلم ممالک کے لیے باعث تشویش سمجھا جاتا ہے، اور وہ ایران کا مزید طاقتور ہونا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایران اس جنگ سے مزید مضبوط ہو کر نکلا تو وہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرے گا، جو اس کے تاریخی فارسی تشخص اور علاقائی عزائم سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔ دوسری جانب عرب ممالک کو خدشہ ہے کہ اسرائیل اپنے مذہبی اور تزویراتی ایجنڈے کے تحت پورے خطے پر اثرورسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور مذہبی اختلافات بھی اس عدم اعتماد کی ایک وجہ ہیں۔

اس کے باوجود حالیہ جنگ کے بعد دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ خطے میں اتحاد سب کے مفاد میں ہے، اگرچہ عرب ممالک کو مکمل دفاعی خودمختاری حاصل کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔

دنیا ایک نئے رخ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال سے کیا معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی معاونت طلب کر چکا ہے، اور امریکہ کے بارے میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ “کوئی بھی لنچ مفت نہیں ہوتا”۔ اس کے باوجود پاکستان کا ایٹمی پروگرام، جس کی وجہ سے اسے ماضی میں عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، آج اس کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں