ڈیجیٹل غلامی: اسکرین کے پیچھے کھوئے ہوئے انسانی رشتے

نگھت لاکھیر

یہ اکیسویں صدی کا دور ہے، جہاں ڈجیٹل ٹیکنالوجی، خاص طور پر موبائل فونز، ہماری زندگی پر مکمل طور پر حاوی ہو چکے ہیں۔ ان آلات نے جہاں ہماری زندگی کو سہل بنایا ہے، وہیں کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ انہوں نے ہمیں کس چیز سے محروم کر دیا ہے؟ وہ ہے — ہماری اصل انسانی رشتے۔

موبائل فون کے کئی نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ہمیں تنہا کر دیا ہے۔ جی ہاں! ہمیں ان نقصانات کا احساس تو ہے، لیکن ہم انہیں روکنے یا کم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

کسی بھی گھریلو نشست پر نظر ڈالیں — ایک ہی گھر کے پانچ افراد ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہر ایک اپنی موبائل کی دنیا میں گم ہوتا ہے۔ دوست اور رشتے دار بھی جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بات چیت کرنے کے بجائے موبائل کی اسکرین میں گھسے رہتے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر تو ایک جگہ موجود ہوتے ہیں، مگر ذہنی طور پر میلوں دور۔

وہ دن گزر گئے جب لوگ اپنے جذبات کو الفاظ اور اشاروں سے بیان کرتے تھے۔ اب ہم اپنے احساسات ایموجیز کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں — خوشی کے لیے ایموجی، رونے کے لیے ایموجی، غم اور غصے کے لیے ایموجیز۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم کس قدر مشینی زندگی گزار رہے ہیں؟ یہی ہوتا ہے جب ہم موبائل فون کو ایک آلہ سمجھنے کے بجائے اپنا مالک بنالیتے ہیں۔

کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، اور موبائل فون بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ہماری زندگی اب موبائل کے گرد گھومنے لگی ہے — پورا دن اسکرولنگ میں گزر جاتا ہے، جبکہ حقیقت کی دنیا میں ہمارے رشتے ختم ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ہمیں ہزاروں “دوست” اور “فالوورز” تو دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمیں اور زیادہ تنہائی میں دھکیل دیتا ہے۔ ایک شخص آن لائن لاکھوں فالوورز رکھتا ہے، مگر جب وہ کسی درد یا مسئلے میں مبتلا ہوتا ہے، تو اس کے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں ہوتا۔

المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز ہوتے ہیں، وہ تنہائی میں مر جاتے ہیں — اور کسی کو ان کے بارے میں علم تک نہیں ہوتا۔

اگر آپ سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں کہ آپ بیمار ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں، تو کتنے “دوست” آپ سے ملنے آئیں گے؟ زیادہ تر صرف “جلد صحتیابی کی دعا” کا کمنٹ کرکے دوستی کا فرض ادا کریں گے۔
ورچوئل رابطے گرم جوشی، ہمدردی اور توجہ کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ہزاروں لائکس اور کمنٹس ایک محبت بھرا جملہ یا کسی کی موجودگی کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی زندگی واپس لیں۔
موبائل فون کو صرف ایک آلہ سمجھیں — اپنی زندگی کے اصل لوگوں سے بات کریں، خاندان اور دوستوں سے ملیں، اصل ساتھ دی تابیں پڑھیں، فطرت کے مناظر کا لطف لیں، اسکرین سے باہر کی دنیا کو دیکھیں۔

سچی خوشی لائکس اور فالوورز سے نہیں، اصل اور بامعنی رشتوں سے آتی ہے۔ ان رشتوں کو سنواریں جو تنہائی میں سسک سسک کر مر رہے ہیں —

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، موبائل کے اس نشے سے چھٹکارا حاصل کریں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی خوشیوں کی طرف لوٹ آئیں!

اپنا تبصرہ لکھیں