ٹھٹھہ (ویب ڈیسک) سندھو دریا (دریائے سندھ) کے آخری بئراج کوٹری سے اس وقت ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک سے زائد پانی کا ریلہ سمندر کی طرف رواں دواں ہے، توقع ظاہر کی جاتی ہے کہ کچھ دنوں میں سندھو اور سمندر میں ملاقات ہوگی۔ جس سے طویل عرصے بعد ڈیلٹا کے آبی اور انسانی باسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ٹھٹھہ کے مقامی صحافی اسمعاعیل میمن کے مطابق پانی کا یہ بہاؤ جھرک، ملاکاتیار اور ٹھٹھہ-سجاول کو ملانے والے آخری پل سے گزرتا ہوا سخی جمیل شاہ داتار کی درگاہ کے قریب پہنچ کر ڈیلٹا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دریا کا رخ جنگیسر مچھلی پکڑنے کے مقام اور کاروچھان کے پاس واقع شاخوں سے ہوتا ہوا کیٹی بندر کی سمت ہے۔
مقامی ماہی گیروں کے مطابق ڈیلٹا کے 36 دریائی جزیروں میں پانی پہنچ چکا ہے، جہاں برسوں بعد تازہ پانی آنے سے مچھلی اور جھینگے کی افزائش دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ ماہی گیر کشتیوں اور جالوں کے ساتھ شکار میں مصروف ہیں اور سمندری کھارے پانی کو پیچھے دھکیلنے پر شکرگزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔
ٹھٹھہ اور سجاول کے ساحلی علاقوں گھوڑاباری، کیٹی بندر اور کاروچھان کے رہائشی بھی پرامید ہیں کہ میٹھے پانی کے تسلسل سے کھارے پانی کے باعث خراب ہوچکی زمین اور زیرِ زمین پانی دوبارہ قابلِ استعمال ہو جائے گا۔
ماہی گیروں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ 1991ء کے پانی کے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پر کم از کم 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری بیراج سے نیچے چھوڑا جائے تاکہ ڈیلٹا کی بحالی اور سمندر کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ماحولیاتی ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ ڈیلٹا میں پانی کی کمی نے نہ صرف آبی حیات بلکہ مقامی معیشت اور انسانی آبادی کو بھی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔