کراچی: سندھ بھر میں ہندو برادری آج سے اپنا قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار “تھدڑی” عقیدت و جوش و خروش سے منارہی ہے۔ یہ تہوار ہندو دھرم میں ایک اہم اور مشہور دن مانا جاتا ہے، جو سنبت وکرمی یا سندھی سال کے “سانوڻ” مہینے کے اختتام پر، عموماً اگست میں منایا جاتا ہے۔ مقامی روایت کے مطابق، تھدڑی کا آغاز گرمیوں کے اختتام اور سرد راتوں کے آغاز کی علامت ہے۔
تھدڑی کے دن گھروں میں چولہا نہیں جلایا جاتا اور گرم یا تازہ پکے کھانوں سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ایک روز قبل مٹھائیاں، لولا (آٹے اور شکر سے بننے والی روایتی ڈش) اور دیگر میٹھے پکوان تیار کرلیے جاتے ہیں، جو تہوار کے دن رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس روز مندروں اور گھروں میں پوجا پاٹھ کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔
تہوار کا ایک روحانی پہلو “کانوڑے کی روشنی” بھی ہے، جب شام کو گھروں اور مندروں میں “کانوڑو” جلایا جاتا ہے، جس میں تیل کا دیا رکھا جاتا ہے۔ یہ روشنی خوشحالی، صحت اور نئی شروعات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق، اس دن بھگوان دھنونتری نے جنم لیا تھا، جو صحت اور دولت کے دیوتا مانے جاتے ہیں۔

تھدڑی سے دو دن بعد ہندو دھرم کا ایک اور اہم دن “جنم اشٹمی” منایا جاتا ہے، جو شری کرشن جی کے جنم کا تہوار ہے. اس دن سخت ورت رکھا جاتا ہے، جس میں دن بھر کچھ کھایا پیا نہیں جاتا، صرف دودھ یا دہی لینے کی اجازت ہوتی ہے، وہ بھی سورج غروب ہونے سے پہلے۔ رات کو چاند نکلنے پر اسے “ارگ” دے کر روزہ کھولا جاتا ہے۔
تھدڑی سے چند روز قبل “راکی بندھن” یا “راکي ٻڌڻ” کی رسم بھی منائی جاتی ہے، جس میں بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکی باندھ کر ان کی لمبی عمر اور خوشحالی کی دعائیں کرتی ہیں، جبکہ بھائی انہیں تحائف اور خرچیاں دیتے ہیں اور زندگی بھر حفاظت کا وعدہ کرتے ہیں۔

سندھ کے مختلف شہروں اور دیہات میں یہ تہوار صرف مذہبی عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی، بھائی چارے اور موسمی روایات کا بھی خوبصورت امتزاج ہے، جس میں لوگ خوشیاں بانٹتے اور پرانی روایتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔