لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ صورتحال بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے اور صوبے کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔
محکمہ انہار کے مطابق سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ نو لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ اس مقام پر دریا کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے۔
خانکی کے مقام پر بھی پانی کا بہاؤ بڑھ کر چار لاکھ پچاس ہزار کیوسک ہوچکا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اگلے 12 گھنٹوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
اسی طرح دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بہاؤ ایک لاکھ 95 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
سیالکوٹ میں شدید بارش
سیالکوٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 355 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جس سے سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں۔
ظفروال میں نالہ ڈیک کے ریلے سے ہنجلی پل کا ایک حصہ ٹوٹ گیا، جبکہ درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
بہاولپور کی تحصیل خیر پور ٹامے والی اور ملحقہ دریائی علاقوں میں پانی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں، مکانات اور اسکول زیرِ آب آگئے ہیں۔
ناروال میں 25 افراد سیلاب میں بہہ گئے
نارووال اور شکرگڑھ کے قریب خواتین اور بچوں سمیت 20 سے 25 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ متاثرین کئی گھنٹوں سے ایک دیوار پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔
مقامی نمائندے احمد اقبال لہڑی نے کہا ہے کہ ریلیف کیمپوں کے گرد بھی پانی داخل ہوچکا ہے اور سینکڑوں افراد محصور ہیں۔
فوج سے مدد طلب
پنجاب حکومت نے شدید صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزارت داخلہ سے فوج کی مدد طلب کرلی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوجی دستے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
فوجی معاونت ناگزیر
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال اس وقت شدید متاثرہ اضلاع میں شامل ہے، جہاں دریائے راوی اور نالہ ڈیک کے پانی نے بڑے پیمانے پر علاقے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے تاہم سیلاب کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوجی معاونت ناگزیر ہو گئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی سطح اگلے چند روز میں مزید بلند ہوسکتی ہے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔