حیدرآباد (رپورٹر) سندھین نیشنل کانگریس اور “جنگلات بچاؤ کمیٹی” کی جانب سے سندھ میں جنگلات پر قبضوں اور درختوں کی بےدریغ کٹائی کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کے دوران شرکاء نے علامتی بھوک ہڑتال بھی کی۔
احتجاج میں سندھین نیشنل کانگریس کے چیف آرگنائزر ایڈووکیٹ محب آزاد، جنگلات بچاؤ کمیٹی کے رہنما زین داؤد پوتہ، فقیر محمد سولنگی، رضوان میمن، وکی لوہار، ڈاکٹر علی محمد جوگی اور دیگر نے شرکت کی۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ محمد خان، کاٹھڑی اور میانی کے جنگلات پر قبضے کر کے وہاں درختوں کی وسیع پیمانے پر کٹائی کی جا رہی ہے، جس سے قیمتی جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنگلات کی متعدد چوکڑیاں غیر قانونی طور پر بااثر زمینداروں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ محکمہ جنگلات بھی اس عمل میں مکمل طور پر ملوث ہے۔
مقررین نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں کھٹڑ سمیت کئی جنگلات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ بھر میں جنگلات پر تمام قبضے ختم کر کے انہیں دوبارہ آباد کیا جائے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شهباز بلڈنگ سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی مارچ کیا جائے گا اور پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔