اسلام آباد(ویب ڈیسک) متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں انسانی حقوق کی رکن کارکن، وکیل ایمان مزاری کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو بدھ کے روز عدالت سے گرفتار کر لیا گیا.
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی، جس دوران جج محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور انہیں کل (جمعرات) عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا.
عدالتی حکم کے فوراً بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے کمرہ عدالت کے باہر ہی ہادی علی چٹھہ کو ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لے لیا.
استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر عائد کی.
یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا.
واضح رہے کہ 30 ستمبر کو اسی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی.
این سی سی آئی اے کی جانب سے جمع کرائے گئے سات صفحات پر مشتمل چالان میں پراسیکیوشن کے چار گواہوں کی فہرست بھی شامل ہے، جو تمام ایجنسی کے ملازم ہیں۔ چالان میں ایمان مزاری کی مختلف ٹویٹس اور ان کے مواد کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ٹویٹس کو ہادی علی چٹھہ نے ری ٹویٹ کرکے مزید پھیلایا.