کراچی (ویب ڈیسک) خیرپور کے نواحی علاقے خانواہن سے تعلق رکھنے والے میڈیکل ٹیکنیشن اور ہئیر ٹرانسپلانٹیشن کے ماہر مہمیر تنیو کراچی پولیس کے مبینہ مقابلے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کے اہلِ خانہ نے اس واقعے کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مہمیر تنیو 16 اکتوبر کو اپنے گاؤں تنیہ بقا شاہ خانواہن سے کراچی روانہ ہوئے تھے۔ ان کے بھائی توفیق احمد کے مطابق مہمیر ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی اسپتال میں زیرِ علاج پیر محمد تنیو نامی شخص کی عیادت کرنے اور خیرپور میں واقع اپنی کلینک کے لیے ضروری سامان خریدنے گئے تھے، جہاں وہ ہئیر ٹرانسپلانٹ کے آپریشن کیا کرتے تھے۔
“پولیس مقابلے میں مارا گیا شخص بے گناہ تھا”
توفیق احمد کے مطابق مہمیر کراچی میں اپنے بھائی الہوسایو کے گھر مقیم تھے، جو خود ٹریفک پولیس میں اہلکار ہیں. 19 اکتوبر کی شام مہمیر یہ کہہ کر گھر سے نکلے کہ انہیں کلینک کے لیے سامان لینا ہے، لیکن وہ واپس نہیں آئے۔ اہلخانہ کے مطابق اس وقت ان کے پاس 10 سے 15 لاکھ روپے نقد موجود تھے.
21 اکتوبر کی صبح مہمیر کے بھائی توفیق احمد کو ایدھی ہوم سہراب گوٹھ سے ایک شخص کی فون کال موصول ہوئی، جس نے بتایا:
> “آپ کے بھائی کی لاش تین دن سے ہمارے پاس پڑی ہے، آ کر لے جائیں۔”
ایدھی ہوم کے عملے کے مطابق لاش گلشنِ اقبال پولیس کے اہلکار چھوڑ گئے تھے، اور ان کا کہنا تھا کہ مہمیر ایک “نامعلوم ڈاکو” تھے جو پولیس مقابلے میں مارے گئے.

“پولیس نے پیسے لوٹے اور قتل کر دیا” — اہلخانہ کا الزام
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے مہمیر سے بڑی رقم لوٹ کر انہیں بے دردی سے قتل کیا۔ ان کے مطابق مہمیر کو 9 ایم ایم پستول اور ایس ایم جی کی گولیاں لگی تھیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پولیس نے چھپا لی ہے۔
جب ورثا گلشنِ اقبال تھانے پہنچے تو ان کے مطابق انہیں سارا دن دھکّے کھانے پڑے۔ بعد میں تفتیشی افسر پرویز احمد نے انہیں بتایا کہ “مارا گیا شخص مجرم تھا”، مگر گرفتار مبینہ ساتھی جمیل احمد نے خود پولیس کے سامنے بیان دیا کہ وہ مرنے والے شخص کو جانتا ہی نہیں۔
“ہمیں انصاف چاہیے”
مقتول کی والدہ شرفاں بی بی اور اہلیہ کی حالت غیر بتائی جا رہی ہے، جبکہ مہمیر کا کم عمر بیٹا عباس حیدر اپنے والد کی جدائی پر نڈھال ہے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ پہلی نومبر کو سندھ بار الیکشن کے بعد کراچی جا کر عدالت سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا ازخود نوٹس لیں، جعلی پولیس مقابلے کی آزادانہ تحقیقات کرائیں اور شہید مہمیر تنیو کو انصاف فراہم کیا جائے۔
پولیس کی جانب سے اس واقعے پر سرکاری مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔