گھوٹکی میں شکیلا گبول کی پراسرار موت، “سیاہ کاری” کے الزام میں قتل کا شبہ – اہلِ خانہ کا انصاف کا مطالبہ

گھوٹکی (نمائندہ خصوصی) سندھ کے ضلع گھوٹکی کے گاؤں میر خان گبول کی رہائشی شکیلا گبول کی پراسرار موت نے علاقے میں شدید غم و غصہ اور بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ورثاء اور اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ شکیلا کو مبینہ طور پر “سیاہ کاری” کا الزام لگا کر زہر دے کر قتل کیا گیا، اور واقعے کے صرف تین گھنٹے بعد جلد بازی میں دفن کر دیا گیا.

ورثاء کے مطابق مقتولہ کو اس کے سسرالی افراد نے قتل کیا۔ شکیلا کی ماں اور بہنوں نے اسے تشویش ناک حالت میں اسپتال پہنچایا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر انیل کمار نے پولیس کو اطلاع دیے بغیر ابتدائی علاج کیا اور بچی کو مردہ قرار دے کر لاش گھر بھیج دی.

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ لاش گھر پہنچنے سے پہلے ہی سسرالی افراد گھروں کو تالا لگا کر فرار ہو چکے تھے.

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد علاقے کے بااثر وڈیروں نے مبینہ طور پر والدین پر دباؤ ڈال کر صرف ایک گھنٹے کے اندر لاش دفن کروا دی اور مقدمہ درج نہ کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔ تاہم مقتولہ کی ماں نے مزاحمت کر کے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی خاطر قانونی کارروائی شروع کی.

اہلِ خانہ کے احتجاج اور درخواستوں کے بعد تھانہ جروار میں شہید شکیلا گبول کی والدہ کی مدعیت میں آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے.

شکیلا کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قبر کشائی کر کے لاش کی پوسٹ مارٹم کرائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں.

دوسری جانب شکیلا کی بوڑھی ماں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عا کیا کہ اس کی بیٹی کو وحید، حسینہ، اربیلی، ساگر، ساحل ودیگر نے قتل کیا ہے.

انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے اپیل کی ہے کہ نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کر کے ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں