قومپرست رہنماؤں کی رہائی کے متعلق جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم، جڈیشل رمانڈ پر جیل منتقل، طبی معائنے کاحکم

کراچی (انڈس ٹربیون) سندھ ہائی کورٹ کراچی نے سٹی کورٹ ویسٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے اُس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں قوم پرست رہنماؤں غنی امان چانڈیو اور سرمد علی رضا میرانی کو سیکشن 63 ضابطہ فوجداری کے تحت ڈسچارج کیا گیا تھا. عدالت نے سی ٹی ڈی سندھ کی جانب سے دائر نظرِثانی درخواست کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا.

کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر علی راجپوت نے کی، جبکہ قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی عدالت میں پیش ہوئے. دوسری جانب ملزمان کی جانب سے وکلا کی ٹیم- حق نواز تالپور، عامر نواز وڑائچ، محمد حسیب جمالی، غلام پروَر، مختیار سمائر اور شمس الدین چانڈیو عدالت میں پیش ہوئے.

ملزمان کے وکیل محمد حسیب جمالی کے مطابق عدالت نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ اگر کسی جوڈیشل مجسٹریٹ نے رہائی کا حکم دیا اور وہ پولیس کو موصول بھی ہو گیا، تو پولیس کو کسی بھی صورت میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا اختیار نہیں. عدالت نے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر اس طرح کی مثالیں قائم ہوئیں تو عدالتی نظام کا اعتماد ختم ہو جائے گا اور عوام کا عدلیہ سے یقین اٹھ جائے گا. ”

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حسیب جمالی نے بتایا کہ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیکشن 63 Cr.P.C کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ اس نوعیت کے احکامات جاری کرے، تاہم عدالت نے کہا کہ وہ فی الوقت مجسٹریٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا حکم دے رہی ہے.

عدالت نے سی ٹی ڈی سندھ کی فوری سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2 نومبر 2025 کو جاری جوڈیشل مجسٹریٹ XVII کراچی ویسٹ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا. چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ سی ٹی ڈی سندھ کے انچارج، ملزمان غنی امان چانڈیو اور سرمد علی رضا میرانی کو آج (منگل)کے روز ہی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کراچی کے منتظم جج کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کا عدالتی ریمانڈ حاصل کیا جا سکے.

عدالت نے مزید حکم دیا کہ سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ ملزمان کا طبی معائنہ کروائیں اور پانچ دن کے اندر اندر رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں.

ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سی ٹی ڈی نے دونوں ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 19 کراچی میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا۔ سماعت کے دوران جج نے ملزم غنی امان سے پیشے کے متعلق سوال کیا، جس پر انہوں نے جواب دیا، “میں شاہ لطیف کا پیروکار ہوں.” جج کی درخواست پر غنی امان نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام عدالت میں سنایا، جس کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو پانچ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل کراچی بھیجنے کا حکم دیا.

بین الاقوامی ردِعمل: اقوامِ متحدہ سے وابستہ تنظیموں کا غنی امان کی فوری رہائی کا مطالبہ

جنیوا سے جاری بیان میں غیر نمائندہ اقوام کی تنظیم (UNPO) اور ورلڈ سندھی کانگریس نے قوم پرست طالب علم رہنما غنی امان چانڈیو کی مبینہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور محفوظ رہائی کا مطالبہ کیا ہے.

دونوں تنظیموں نے اپنی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ “طلبہ تحریکوں اور سیاسی کارکنوں کی آواز دبانا نہ صرف فردِ واحد پر حملہ ہے بلکہ پاکستان کے جمہوری ڈھانچے پر بھی ضرب ہے، جو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو متزلزل کرتا ہے. ”

بیان میں مزید کہا گیا کہ اظہارِ رائے، اجتماع اور پرامن سیاسی تنظیم سازی ہر شہری کا آئینی اور بین الاقوامی حق ہے. ایسے افراد کو خاموش کر دینا جو انسانی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں، انصاف، احتساب اور جمہوری استحکام کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے.

UNPO اور ورلڈ سندھی کانگریس نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ غنی امان چانڈیو کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، ان کے اغوا کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، اور سیاسی کارکنوں کے خلاف ریاستی جبر کا سلسلہ بند کیا جائے.

اپنا تبصرہ لکھیں