بھریاسٹی(انڈس ٹربیون) ضلعہ نوشہرو فیروز کے شہر بھریاسٹی میں جوگی محلے میں مبینہ طور پر گھروں کی جبری بے دخلی کے لیے مسلح افراد کے حملے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں مزاحمت کے دوران لاٹھیاں اور کلہاڑیاں لگنے سے دو افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا.
بھریا سٹی کے سینیئر صحافی مجید کیریو کے مطابق واقعے کے بعد جوگی برادری کی سینکڑوں مرد و خواتین اور بچے قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر شہر کے مین چوک اور جوگی محلے کے سامنے ٹائر جلا کر احتجاجی دھرنا دیا. دھرنے کے باعث دو گھنٹے تک روڈ مکمل بلاک رہا.
جوگی برادری کے رہنماؤں رمضان جوگی، مٹھل جوگی، منظور جوگی اور دیگر کا میڈیا کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے یہاں کچے گھروں میں رہائش پذیر ہیں اور پچاس سے زیادہ گھر قائم ہیں، مگر انہیں آج تک کوئی بنیادی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
احتجاجی مظاہرین کا الزام تھا کہ پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے سید مراد علی شاہ مبینہ طور پر زمین خالی کرانے کے لیے مسلح افراد بھیج رہا ہے۔ “ہم غریب ضرور ہیں مگر اپنے گھروں سے بے دخل نہیں ہوں گے، چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے”.
“جعلی کاغذات بناکر غریبوں کو جھگیوں سے بیدخل کیا جا رہا ہے”: سابق ٹاؤن چیئرمین
احتجاج میں سابق ٹاؤن چیئرمین سید امیر علی شاہ نے بھی شرکت کی اور کہا کہ “مراد علی شاہ غلط کر رہے ہیں، یہ انتہائی غریب لوگ ہیں، 70 سال سے یہاں آباد ہیں۔ وہ جعلی کاغذات کے ذریعے عوام اور سرکاری زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم کسی صورت ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔”
جھڑپ کے دوران شدید زخمی ہونے والوں میں غنی جوگی اور وقاص جونیجو شامل ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال داخل کیا گیا۔
دوسری جانب ڈی ایس پی بھریاسٹی منظور لکھو موقع پر پہنچے اور مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرایا۔ ڈی ایس پی نے جوگی برادری کو انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
“جوگی محلے کی زمین میری ہے” سابق ایم پی اے
صحافی مجید کیریو کے مطابق قبضہ گیری کے زیرالزام سابق ایم پی اے سید مراد علی شاہ نے ان کو اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ “جوگی محلے کی زمین میری ذاتی ملکیت ہے، اس کے اصل کاغذات اور سروے نمبر میرے پاس موجود ہیں۔”
تاہم واقعے کے حوالے سے آخری اطلاعات تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوسکا تھا۔