سکھر(رپورٹ: تاج رند) ضلع ٹھٹہ کی تحصیل میرپور ساکرو میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی متعدد طالبات نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس پر ان کا مذہب تبدیل کروانے کیلئے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انسانی حقوق کے رہنماؤں اور اقلیتی برادری کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آرہا ہے.
جمعے کے روز پریس کلب میرپور ساکرو میں میٹرک کی طالبہ روشنٰی سمیت چھ طالبات نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسکول کی ہیڈ مسٹریس گلناز جوکھیو انہیں ان کے مذہب کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسلام قبول کرنے کیلئے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں.
طالبہ روشنٰی نے الزام عائد کیا کہ ہیڈ مسٹریس انہیں کہتی ہیں کہ “تم بتوں کی پوجا کرتی ہو، تمہارا مذہب اچھا نہیں، تم مسلمان بن جاؤ۔”
طالبات نے کہا کہ ایک روز قبل بھی کلاس میں لیکچر کے دوران ہیڈ مسٹریس نے کہا کہ “تم کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرو، قیامت آئے گی تو تمہارا خدا کہاں ہو گا؟… تم دوزخی ہو، تمہارے رشتے دار بھی دوزخی ہیں.”
طالبات کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ہیڈ مسٹریس طویل عرصے سے انہیں مذہب تبدیل کرنے کیلئے دبا رہی ہیں۔
ایک اور الزام میں طالبات نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل گھارو میں ایک تقریب کے دوران جب انہوں نے نعت مقابلے میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی تو ہیڈ مسٹریس نے منع کرتے ہوئے کہا کہ “تم غیر مسلم ہو، نعت نہ پڑھو… اگر پڑھنی ہے تو پہلے اپنے نام تبدیل کرو ورنہ اسٹیج پر چاندنی اور روشنی جیسے ناموں کے ساتھ اعلان ہونے پر لوگ پہچان جائیں گے کہ تم غیر مسلم ہو۔”
طالبات کا کہنا ہے کہ وہ اب اس دباؤ سے تنگ آ چکی ہیں اور جب تک ہیڈ مسٹریس اسکول میں موجود ہوں گی، وہ اسکول نہیں جائیں گی.
الزامات کو مسترد کرتی ہوں: ہیڈ مسٹریس
الزامات سامنے آنے کے بعد ہیڈ مسٹریس گلناز جوکھیو نے دھابیجی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا.

ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی صبح ایک غیر مسلم والد سانون اپنی دونوں بیٹیوں روشنی اور وشیتا کے ہمراہ ان کے دفتر آیا اور شکایت کی، جس پر انہوں نے کلاس کی دیگر بچیوں کو بلا کر معاملہ پوچھا لیکن “ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی. ”
انہوں نے مزید کہا: “میں بارہ تیرہ سال سے اسی اسکول میں ہوں، پہلے کبھی ایسا الزام نہیں لگا۔ ہم ٹیچر ہیں، ہمارا کام بچیوں کو پڑھانا ہے، کسی کے مذہب سے ہمارا کوئی سروکار نہیں. کچھ بااثر لوگ مجھے ہٹانے کے لیے بچیوں کو استعمال کر رہے ہیں. ”
محکمہ تعلیم کا نوٹس، ہیڈ مسٹریس معطل
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) ٹھٹھہ حضور بخش خاصخیلی نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میرپور ساکرو کی انچارج ہیڈ مسٹریس گُل ناز گل جوکھیو کو غیر مسلم طالبات سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر عہدے سے معطل کرتے ہوئے باضابطہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے.

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین پرنسپل GBHSS گھارو گل حسن اوڈھو ہوں گے، جبکہ دیگر ارکان میں پرنسپل GBHSS جھرک موہن لال، ڈی ڈی ای او زینب شاہین، ہیڈ مسٹریس GGHSS گھارو نسرین پليجو اور اے ای او سید ہاشم شاہ شامل ہیں۔
کمیٹی کو تین دن کے اندر تفتیش مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے.
سماجی تنظیموں کا ردِعمل
اقلیتی برادری کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے.
دراوڑ اتحاد پاکستان کے چیئرمین شیوا کچھی نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری طور پر تحقیقات کر کے ہیڈ مسٹریس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سندھ میں ہندو برادری کی بچیوں پر مذہب تبدیلی کے مبینہ دباؤ کے بارے میں موجود خدشات کو تقویت دیتا ہے.
پس منظر
سندھ میں مذہبی تبدیلی کے واقعات کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں.
رواں سال جون میں ضلع سانگھڑ کے شہدادپور میں زیڈ اے کے اکیڈمی کے چار طلبہ اچانک لاپتہ ہوئے تھے۔ بعدازاں عدالت میں انہوں نے بیان دیا کہ وہ اپنے استاد کے لیکچرز سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر چکے ہیں. عدالت نے بالغ طالبات-جیا بائی (مریم) اور دیا بائی (خدیجہ)-کو ان کی مرضی کے مطابق استاد کے حوالے کیا جبکہ نابالغ بچوں دشینا (سدرہ) اور ہرجیت کمار (عبدالرافع) کو ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض والدین کے حوالے کر دیا گیا.