کراچی: احتجاج کی کوریج کرنے والی خاتون صحافی اور سماجی کارکن گرفتاری کے بعد رہا

کراچی (ویب ڈیسک)کراچی پریس کلب کے باہر 27ویں ترمیم کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے والی خاتون صحافی عالیہ سہیل اور سماجی کارکن فروہ عسكري کو تقریباً پانچ گھنٹے کی مبینہ غیرقانونی حراست کے بعد رہا کردیا گیا.

کئی گھنٹوں کی قیاس آرائیوں اور احتجاجی آوازوں کے بعد دونوں خواتین کو رات گئے رہا کردیا گیا۔ تاہم صحافتی تنظیموں نے اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں خواتین کو جمعے کی شام احتجاج کے بعد حراست میں لیا گیا اور مختلف تھانوں میں منتقل کیا جاتا رہا۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا، جہاں کئی گھنٹے تک انہیں رہا نہیں کیا گیا۔

تحریک انصاف سے مبینہ تعلق کا الزام

ذرائع کے مطابق پولیس نے دونوں خواتین پر پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) سے تعلق کا الزام عائد کیا، جبکہ کسی قسم کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اس اقدام پر صحافی برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے.

مبینہ الزامات کے حوالے سے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر گرفتاری، بلاجواز ہراسانی اور مختلف تھانوں میں منتقل کرنا قانونی و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے.

عالیہ سہیل کی گمشدگی کی اطلاع

اس سے قبل صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر اُس وقت دوڑ گئی جب اطلاعات آئیں کہ صحافی عالیہ سہیل کو احتجاج کی کوریج کے بعد شام 5:25 بجے آخری پیغام بھیجنے کے بعد ان کا نمبر بند ہوگیا تھا۔ وہ کئی برسوں سے شہری حقوق، جبری گمشدگیوں اور سول سوسائٹی کے احتجاجوں کی رپورٹنگ کرتی رہی ہیں.

سول سوسائٹی حلقوں کی تشویش

انسانی حقوق کے رکن جبران ناصر اور صحافی میر کیریو نے دونوں خواتین کی غیرقانونی حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ
“حکومت اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کی بات تو کرتی ہے مگر سچ کی کوریج کرنے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، جو قابلِ مذمت ہے۔”

اپنا تبصرہ لکھیں