سکھر(رپورٹ: تاج رند) ضلع خیرپور کی تحصیل نارو کے رہائشی غریب کسان ضمیر دھاریجو نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے فضل علی شاہ کے بھائی پیر حسین علی شاہ، ان کے بیٹے اور بھتیجوں نے اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کیا.
ضمیر دھاریجو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اتوار کے روز پیر حسین شاہ اپنے بیٹے چیزل شاہ اور ملازمین کے ہمراہ کار چلاتے ہوئے اسے جان بوجھ کر ٹکر ماری۔ بعدازاں اسے پکڑ کر بدترین تشدد کرتے ہوئے محمد بخش نامی شخص کی بیٹھک پر لے جایا گیا، جہاں اسے رسیوں سے باندھ کر دوبارہ وحشیانہ تشدد کیا گیا۔
ان کے مطابق تشدد کی شدت سے پسلیاں اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ آنکھوں سمیت پورا جسم زخمی ہوگیا۔
کسان نے مزید بتایا کہ دورانِ تشدد ملزمان اسے کتے کی طرح بھونکنے پر مجبور کرتے رہے۔ بعد میں ملزم حسین علی شاہ کے چچا محسن شاہ نے مداخلت کرکے اسے چھڑایا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا
ضمیر دھاریجو کے مطابق جب وہ انصاف کی تلاش میں سوراہ پولیس اسٹیشن پہنچا تو پولیس نے بااثر پیروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور میڈیکل لیٹر دینے سے صاف انکار کر دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او نے دھمکی دی کہ:
> “پیروں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا سوچ کر خود کو مرواؤ گے، بہتر ہے جا کر معافی مانگ لو اور صلح کر لو. ”

شدید احتجاج کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا، صرف میڈیکل لیٹر دے کر اسے واپس بھیج دیا۔
بااثر خاندان کا مبینہ راج- مقامی لوگوں کے انکشافات
نارو کے ایک سماجی رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم حسین علی شاہ ایم این اے فضل علی شاہ کے بھائی ہیں اور ان کے بھائیوں و بھتیجوں نے یونین کونسل تجل سمیت نارو میں عملاً اپنی ’’ریاست‘‘ قائم کر رکھی ہے۔
ان کے مطابق:
غریب کسانوں پر تشدد،
لڑکیاں اٹھانے،
نجی و سرکاری زمینوں پر قبضہ،
پرندوں کا غیرقانونی شکار
جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مقامی پولیس بھی خوف کے باعث کارروائی سے گریز کرتی ہے۔
پانچ سال قبل اسی خاندان کے فرد حسین علی شاہ نے سرکاری درخت کاٹنے سے روکنے پر اُس وقت کے ایس ایچ او لطف شاہ پر حملہ کیا تھا۔ واقعے پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ تو درج ہوا لیکن بااثر افراد گرفتار نہ ہوئے، بلکہ چند گھنٹوں بعد ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
پیروں کے گھر کا اندھیرا — فاطمہ فھرڑو قتل کیس کی یاد دہانی
یاد رہے کہ دو سال قبل اسی خاندان کے کزن فیاض شاہ نے اپنی حویلی میں 12 سالہ ملازمہ فاطمہ فھرڑو کو جنسی زیادتی کے بعد بہیمانہ تشدد کر کے قتل کر دیا تھا، جس کا مقدمہ آج بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز ہے.
متاثرہ کسان کی اپیل
تشدد کا نشانہ بننے والے ضمیر دھاریجو جو کہ حسین علی شاہ کے چچا پیار علی شاہ کے ملازم بھی ہیں، نے
اعلیٰ عدلیہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
بااثر ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے
انہیں گرفتار کیا جائے
متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ملزم کا مؤقف
حسین علی شاہ کا مؤقف لینے کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں مگر ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔