سینیٹ نے 15 سال بعد ٹرانسجینڈرز و گھریلو تشدد بل پاس کرلیا

اسلام آباد(ويب ڈیسک) سینیٹ نے گھریلو تشدد کے تدارک اور ٹرانسجینڈرز کے حقوق کے تحفظ سے متعلق دو اہم بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے، جبکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو “کئی ہفتوں سے مکمل تنہائی” میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ اہلِ خانہ کو رسائی دی جا رہی ہے اور نہ ہی قانونی ٹیم کو ملاقات کی اجازت ہے، جو جیل قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس مؤقف پر اپوزیشن بنچوں نے بھرپور احتجاج کیا۔

ایوان نے بعدازاں گھریلو تشدد کے خلاف اور ٹرانسجینڈرز کے حقوق سے متعلق بلز منظور کر لیے، جنہیں سینیٹر شیری رحمان نے پیش کیا۔ بل کی منظوری پر پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے اعتراض اٹھاتے ہوئے ایوان میں احتجاج کیا۔

شیری رحمان نے کہا کہ تمام صوبوں میں ایسے قوانین پہلے سے موجود ہیں اور وفاقی سطح پر یہ قانون سازی 15 سال سے التوا کا شکار تھی، جسے آج مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو “اہم سماجی سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے حکومت اور اتحادی جماعتوں کو مبارکباد پیش کی۔

دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کو “غیر شرعی” قرار دیتے ہوئے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

ایوان کی کارروائی جمعے کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں