بہت ہوگیا

زورین نظامانی

اقتدار میں بیٹھے پرانی سوچ کے حامل عمر رسیدہ فرسودہ گروہ کے لیے اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل اب وہ سب کچھ خریدنے کے لیے تیار نہیں، جو آپ انہیں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اسکولوں اور کالجوں میں حب الوطنی بڑھانے کے لیے کتنی تقریریں اور سیمینار منعقد کرتے ہیں۔ حب الوطنی خود بخود اس وقت جنم لیتی ہے، جب مساوی مواقع، بہتر انفراسٹرکچر اور مؤثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی سہولتیں دیں گے اور ان کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالیں گے، تب آپ کو اسکولوں اور کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ انہیں اپنے ملک سے محبت کرنی چاہیے، وہ خود ہی ایسا کرنے لگیں گے۔

نوجوان ذہن، یعنی جنریشن زی (Gen Z) اور الفا، بخوبی جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ حب الوطنی کے بارے میں اپنے خیالات ان پر زبردستی مسلط کرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود، وہ حقیقت کو صاف صاف دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور وہ تھوڑی بہت تعلیم، جو ہمارے پاس ابھی باقی ہے، اس کے باعث آپ کی وہ تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جاہل رکھنا تھا۔ آپ لوگوں کو یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ انہیں کیا سوچنا چاہیے؛ اب وہ خود سوچنے لگے ہیں۔ وہ شاید اپنی رائے ظاہر کرنے سے کچھ ڈرتے ہیں، کیونکہ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود پسندی اور نیکی کے اُس دکھاوے کو پہچان چکے ہیں، جسے آپ بڑی مہارت سے سجائے بیٹھے ہیں۔ آپ طاقت کے زور پر اقتدار میں تو رہ سکتے ہیں، مگر عوام کو آپ کی کوئی خاص پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ اگر یہ بات لوگوں میں آپ کی مقبولیت کے بارے میں بہت کچھ نہیں بتاتی، تو پھر آپ کو حالات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

نوجوان نسل اب تھک چکی ہے، اور جب اس نے یہ سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتور لوگوں کو چیلنج نہیں کر سکتی، تو وہ ملک چھوڑنے لگی ہے۔ میں اتنا آئیڈیلزم نہیں رکھتا کہ یہ سمجھوں وہ کرپشن کے خلاف کوئی تحریک چلائیں گے۔ اس کے بجائے وہ خاموشی سے نکل جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے، کیونکہ ان کے وہ دوست جنہوں نے آواز اٹھائی تھی، انہیں خاموش کرا دیا گیا۔

لیکن اب ان پوڑھوں (Boomers) کے لیے سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ نظام کے درمیان ایک بہت بڑا خلا موجود ہے۔ یہاں کوئی درمیانی راستہ ہی نہیں۔ جنریشن زی تیز رفتار انٹرنیٹ چاہتی ہے، جبکہ اقتدار میں بیٹھے فرسودہ سوچ کے حامل پوڑھے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زی سستے اسمارٹ فون چاہتی ہے، جبکہ پوڑھے اسمارٹ فونز پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زی فری لانسنگ پر پابندیوں میں نرمی چاہتی ہے، جبکہ پوڑھے فری لانسنگ پر مزید ضابطے نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مشترکہ زمین نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پرانا نسل ہار چکا ہے۔

آپ جتنی مرضی جنگیں شروع کر لیں، جنریشن زی انہیں میمز میں بدل دے گی۔ مین اسٹریم میڈیا پر مکمل پابندی لگا دیں، جنریشن زی اپنے خیالات کے اظہار کے لیے رمبل (Rumble)، یوٹیوب اور ڈسکارڈ جیسے پلیٹ فارمز کی طرف چلی جائے گی۔ اے پوڑھو! اب آپ خیالات پر سینسرشپ نہیں لگا سکتے۔ وہ دن گزر چکے جب آپ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بیوقوف نہیں بنتا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں ہیں۔ ہاں، ہمارے پاس فلیٹ کرائے پر لینے کی استطاعت نہیں ہے۔ ہاں، اب ہم گاڑی بھی نہیں خرید سکتے۔ آپ کی کوششوں کے نتیجے میں ہمیں جو معیشت وراثت میں ملی ہے، وہ آپ کی اخلاقیات سے بھی بدتر ہے۔

لیکن ان تمام حالات کے باوجود، ہم کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں سکون تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ان دھندلے پانیوں میں اپنا راستہ خود بنا رہے ہیں۔ ہم آپ کو ٹی وی پر نہیں دیکھتے، کیونکہ اکثر آپ جو کچھ کہتے ہیں، وہ ہضم ہونے کے قابل نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس اس کے لیے اسٹینڈ اپ کامیڈی موجود ہے، تو پھر مین اسٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟

وقت بدل رہا ہے، اور آپ جتنا جلدی یہ بات سمجھ لیں، اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن آپ کو پرواہ ہی نہیں۔ آپ کے بچے بیرونِ ملک ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کماتے ہیں، آپ بے لگام طاقت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، آپ بہترین کھانا کھاتے ہیں اور سب سے صاف پانی پیتے ہیں، پھر آپ کو کیوں پرواہ ہو گی؟

آپ کو تب احساس ہو گا، جب آپ کو معلوم ہو گا کہ اب کوئی بھی آپ کی بات نہیں سن رہا۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ جنریشن زی نے ہیڈفون لگا رکھے ہیں، اور ان کے پاس اسپاٹی فائی (Spotify) پریمیم ہے۔ اگر حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو آدھے لوگوں کے پاس ملک چھوڑنے کے وسائل ہوں گے، اور باقی آدھے لوگ آپ کو اپنا میوزک سنائیں گے — اور وہ بھی کسی اچھے انداز میں نہیں ……

اپنا تبصرہ لکھیں