کراکس/واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکہ نے ہفتے کی علی الصبح وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر بڑے پیمانے پر فوجی حملہ کیا، جس کے بعد وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک خفیہ رات کے آپریشن میں گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا ہے۔
وینزویلا کی حکمران جماعت کے رہنما نہم فرنانڈیز نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ فوجی ہیڈکوارٹر فورٹ ٹیونا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے، جہاں بمباری کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

(ماناورے کوئنٹیرو / رائٹرز)
ان کے مطابق:
“یہ وہی جگہ ہے جہاں بمباری کی گئی اور وہیں صدر اور خاتونِ اول کو، جسے ہم اغوا کہہ سکتے ہیں، حراست میں لیا گیا۔”
عینی شاہدین کے مطابق علی الصبح کراکس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جبکہ کم بلندی پر پرواز کرتے طیارے بھی دیکھے گئے۔ وینزویلا کی حکومت نے فوری طور پر امریکہ پر شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’سامراجی حملہ‘ قرار دیا اور عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔
امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ پر نیویارک کی وفاقی عدالت میں پہلے ہی منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جلد امریکی عدالتوں میں انصاف کا سامنا کریں گے۔
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ایک بیان میں کہا:
“ہمیں صدر نکولس مادورو اور خاتونِ اول کے ٹھکانے کا علم نہیں، ہم ان کی زندگی کے ثبوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
یہ کارروائی 1989 میں پانامہ پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکہ میں امریکہ کی سب سے براہِ راست فوجی مداخلت قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس وقت وینزویلا کا نظم و نسق کس کے ہاتھ میں ہے۔
روس، کیوبا، ایران اور برازیل سمیت کئی ممالک نے امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین نے فریقین سے تحمل اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جبکہ ناقدین اسے وینزویلا کی خودمختاری پر سنگین حملہ قرار دے رہے ہیں۔
عالمی برادری کی نظریں اس غیرمعمولی پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، جس کے خطے اور دنیا پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خtqدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔w